مشیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس

مشیر خزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد۔:وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ اور محصولات شوکت ترین کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (NPMC) کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری صنعت و پیداوار، ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن، صوبائی چیف سیکرٹریز، چیف شماریات پی بی ایس اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی نے ملک میں روزمرہ استعمال کی اشیاء اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔

سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو ہفتہ وار ایس پی آئی SPI کی صورتحال کے بارے میں بتایا جس میں زیر جائزہ ہفتہ کے دوران 1.07 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے رجحان کا جائزہ لیتے ہوئے سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ 14کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضروری اشیاء پیاز، آلو، کوکنگ آئل کی قیمتوں میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں کمی آ ئی۔سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ گندم کے آٹے کے تھیلوں کی قیمتیں 1100 روپے فی 20 کلو گرام پر برقرار ہیں۔ پنجاب، کے پی حکومتوں اور آئی سی ٹی انتظامیہ کے فعال اقدامات کی وجہ سے اس میں بہتری آ ئی۔ تمام صوبائی حکومتوں کی جانب سے روزانہ گندم کے اجراء سے قیمتوں میں مزید نرمی آئے گی۔

ملک میں چینی کی قیمت کا جائزہ لیتے ہوئے سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ حکومت کے فعال اقدامات کی وجہ سے پنجاب اور کے پی میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔ چینی کے نئے سٹاک مارکیٹ میں آ رہے ہیں جس سے قیمتیں مزید کم ہو جائیں گی۔ مشیر خزانہ نے چینی کی قیمتوں میں استحکام پر اطمینان کا اظہار کیا اور وزارت صنعت و پیداوار پر زور دیا کہ وہ آنے والے مہینوں میں چینی کی ہموار فراہمی کے لیے ملک میں چینی کے اسٹریٹجک ذخائر پیدا کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرے۔کھانے کے تیل کی قیمتوں کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ عالمی منڈی میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مقامی قیمتیں متاثر ہوئی ہیں، تاہم یہ بتایا گیا کہ پام آئل/سویا بین کی بین الاقوامی قیمتیں جنوری کے بعد سے کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔

مشیر نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ کم بین الاقوامی قیمتیں گھریلو صارفین تک پہنچائی جائیں۔فرٹیلائزرز کے اسٹاک پوزیشن پر بتایا گیا کہ پنجاب اور سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ پنجاب حکومت نے کھادوں کے سٹاک کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے اضلاع میں کنٹرول رومز قائم کیے ہیں اور زیادہ قیمتوں کے خلاف شکایات پر مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔

مشیر خزانہ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی جائے، قلت کو روکا جائے اور تمام صوبوں میں کھاد کی ارزاں نرخوں پر دستیابی یقینی بنائی جائے۔مشیر نے وزارت صنعت و پیداوار کو مزید ہدایت کی کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا جائے اور اسے ترجیحی بنیادوں پر نافذ کیا جائے۔