جیمزویب دوربین نے دوردراز سیارے پر فضا اور بادل دریافت کرلیے

جیمزویب دوربین نے دوردراز سیارے پر فضا اور بادل دریافت کرلیے

پیساڈینا، کیلیفورنیا: مشہورِ زمانہ جیمز ویب خلائی دوربین (جے ڈبلیو ایس ٹی) نے ایک دوردراز ارض نما سیارے میں پہلی مرتبہ فضا اور دیگر کیمیائی اجزا کی تفصیل سے پردہ اٹھایا ہے جو اس سے قبل ممکن نہ تھا اور جدید آلات کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے۔

اس سیارے کا کانام ڈبلیو اے ایس پی 39 بی ہے جس پرفضا ہے، بادل ہے اور وہاں کیمیائی تعاملات (ری ایکشن) بھی ہورہے ہیں۔ اس طرح خلائی دوربین نے ایک اور معرکہ سر انجام دیتے ہوئے ہماری معلومات میں اضافہ کیا ہے اور سیارے کی گہری معلومات فراہم کی ہے۔

دوربین میں نصب جدید اور حساس آلات نے کیمیائی عناصر اور مرکبات کی تفصیل دی ہے جو وسیع انفراریڈ (زیریں سرخ) طیف پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ سیارہ اس سال جولائی میں نظر میں آیا تھا جس کی تفصیلات حال ہی میں جاری کی گئ ہیں۔

اس طرح نظامِ شمسی سے پرے کسی دوسرے سیارے (ایگزوپلانیٹ) میں پہلی مرتبہ کاربن ڈائی آکسائیڈ دریافت ہوئی ہے۔ پھر اس کی فضا میں سلفرڈائی آکسائیڈ کا انکشاف بھی ہوا ہے جو اولین دریافت ہے۔ تاہم اگلے مرحلے میں وسیع ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ڈبلیو اے ایس پی 39 بی کی دبیز فضا پر مزید غور کیا جائے گا۔

اگرچہ یہ ہوبہو زمین جیسا تو نہیں کیونکہ اس کی کمیت سیارہ مشتری کے برابر ہے جو اسے گیسی دیو بناتی ہے۔ یہ اپنے ستارے (سورج) کے گرد چارروز میں ایک چکر پورا کرلیتا ہے اور درجہ حرارت لگ بھگ 871 درجے سینٹی گریڈ ہے۔

اس پر اب تک پانچ سائنسی مقالے لکھے گئے ہیں جو حال ہی میں شائع ہوئے اور ان کی اشاعت کے بعد ہی ذرائع ابلاغ میں سیارے کی تفصیلات آئی ہیں۔