وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی کی زیرِ صدارت زراعت ہاؤس لاہور میں محکمہ زراعت کی ششماہی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کا انعقاد

سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی و دیگر اعلیٰ افسران کی شرکت زرعی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے ایگرو ایکالوجیکل زوننگ اور معیاری زرعی مداخل کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے: وزیر زراعت پنجاب

وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی کی زیرِ صدارت زراعت ہاؤس لاہور میں محکمہ زراعت کی ششماہی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کا انعقاد

لاہور : زرعی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کیلئے ایگرو ایکالوجیکل زوننگ اور معیاری زرعی مداخل کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے یہ بات وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے آج زراعت ہاؤس لاہور میں محکمہ زراعت پنجاب کی دوسری سہ ماہی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پرسیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی  اوراسپشل سیکرٹری زراعت(مارکیٹنگ) پنجاب وقار حسین موجود تھے۔

صوبائی وزیر زراعت نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ محکمے میں بہتری کا عمل جاری رہنا چاہیے اور ہمیں فوکس زرعی ریسرچ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہم نئی ٹکینالوجی کو متعارف کروا کے بہتر نتائج اور اپنے اہداف کے حصول کو ممکن بنا سکتے ہیں۔جدید ریسرچ خصوصی طور پر ہماری فی ایکڑزیادہ پیداوار والی اجناس کے حوالے سے ہونی چاہیے۔

روایتی فصلات کی جگہ ہائی ویلیو ایگریکلچر کو متعارف کروانا وقت کا اہم تقاضہ ہے جس سے کاشتکاروں کی آمدن اور ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو گا۔ صوبائی وزیر نے اس موقع پر ہدایت کی کہ کسانوں کو معیاری زرعی مداخل کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور اس ضمن میں درپیش ملاوٹ شدہ زرعی مداخل اور اوور چارجنگ جیسے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں جدید زرعی مشینری اور بین الاقوامی معیار کی زرعی  لیبارٹریاں کا قیام عمل میں لانا چاہیے جس سے ہم بہتر طور پر سمپلنگ ٹیسٹ کر سکیں گے۔صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے ہر ضلع میں ایک ماڈل یونین کونسل کے قیام کے عمل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان مراکز پر کسانوں کو ٹیکنیکی معاونت فراہم کی جائے جس سے ڈویلپ رورل ماڈل کا نظریہ بھی کامیاب ہو سکے گا۔انھوں نے سہولت بازاروں کے قیام کیلئے موزوں جگہوں کے انتخاب کی اہمیت پر زور دیا اور نیلامی اور آکشن کے نظام کی مانیٹرنگ کو مزید موثر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

  اجلاس میں سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے اسپشل سیکرٹری زراعت(مارکیٹنگ) وقار حسین کو زرعی منڈیوں کے ریکارڈ مرتب کرنے کیلئے آئی ٹی ایپلکیشن''منڈی ایپ''کو دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مزید موثر بناکر15 جنوری تک رپورٹ جمع کروانے کی ہدایتاعلیٰ کی۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت (فیلڈ)غلام صدیق نے بتایا کہ امسال دھان کے مڈھوں کی تلفی کیلئے270 ویٹ سٹرا شیریڈر اور ہیپی سیڈرز مہیا کئے گئے ہیں۔سیکرٹری زراعت پنجاب نے اس موقع پر ہدایت کی کہ اس تعداد کو بڑھایا جائے اور مشینری کی کوالٹی کو مزید بہتر کیا جائے۔

ڈائریکٹر جنرل زراعت(توسیع) پنجاب ڈاکٹر انجم علی نے بتایا کہ ربیع 2020-21میں گندم کے زیرِ کاشت رقبہ کا ہدف1کروڑ62 لاکھ کے برعکس1 کروڑ65 لاکھ ایکڑ لایا گیا ہے اوراس سلسلے میں محکمہ نے سو فیصدٹارگٹ حاصل کیا ہے۔اس کے علاو  اب تک زیر کاشت رقبہ کے اہداف کے مطابق صوبہ میں چنے کی کاشت97 فیصد،آلو کی کاشت96 فیصدکی جا چکی ہے۔محکمہ پیاز اور ٹماٹر کی کاشت کا مقررہ ہدف بھی حاصل کرلے گا۔

ڈائریکٹر جنرل زراعت (اصلاح آبپاشی) ملک محمد اکرم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت پانی کی بچت کے لئے 4ہزار کھالوں کی اصلاح کاکام مکمل کیا گیا اورکاشتکاروں کو 80فیصد سبسڈی سے سولر سسٹم کی تنصیب مکمل کی گئی۔ آبی تالابوں کی تعمیر کاکام مکمل کیا گیا اور اس ضمن میں کاشتکاروں کو 60 فیصد سبسڈی بھی فراہم کی گئی۔

اس پروگرام کے تحت موجودہ مالی سال میں اب تک1600 لیزر لینڈ لیولرز بھی کاشتکاروں کو فراہم کئے جا چکے ہیں۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل زراعت(ریسرچ) ڈاکٹر ظفر اقبال،چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود و دیگر اعلیٰ افسران نے اپنے ذیلی شعبہ جات کی کارکردگی کے متعلق بریفنگ دی۔اجلاس میں ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات محمد رفیق اختر نے بھی شرکت کی۔