پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپلیکس میں ورلڈ بینک پارٹنرشپ فریم ورک سے متعلق مشاورتی اجلاس کا اہتمام

ا اہتمام کیا گیا جس میں ورلڈ بینک، وفاقی حکومت سمیت پنجاب کے تمام انتظامی محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی اس سیشن کا مقصد اگلے پانچ سالوں تک پنجاب کی ترقیاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کرنا تھا اور ان علاقوں میں حکومت پنجاب کا ان پٹ جمع کرنا تھا جہاں ورلڈ بینک تعاون فراہم کرسکے

پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپلیکس میں ورلڈ بینک پارٹنرشپ فریم ورک سے متعلق مشاورتی اجلاس کا اہتمام

لاہور: پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپلیکس میں ورلڈ بینک پارٹنرشپ فریم ورک سے متعلق مشاورتی اجلاس کا اہتمام کیا گیا جس میں ورلڈ بینک، وفاقی حکومت سمیت پنجاب کے تمام انتظامی محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس سیشن کا مقصد اگلے پانچ سالوں تک پنجاب کی ترقیاتی ترجیحات پر تبادلہ خیال کرنا تھا اور ان علاقوں میں حکومت پنجاب کا ان پٹ جمع کرنا تھا جہاں ورلڈ بینک تعاون فراہم کرسکے۔ پرنسپل سکریٹری برائے چیف منسٹر، ایڈیشنل چیف سیکرٹری(ساؤتھ)، چیئرمین پی اینڈ ڈی پنجاب، سیکرٹری پی اینڈ ڈی پنجاب، زراعت، مواصلات اور ورکس، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ، اسپیشلائزڈ ہیلتھ، انڈسٹریز، لائیو اسٹاک، تعلیم، ماحولیات، آبپاشی، سمیت مختلف محکموں کے سیکرٹری اور منیجنگ ڈائریکٹر پاور سیکٹر نے اپنے متعلقہ محکموں کا جائزہ پیش کیا۔ ورلڈ بینک کے کنٹری ہیڈ آف پاکستان نجی بنہاسین نے مجوزہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پیش کیا۔

اس ڈھانچے کے تحت ورلڈ بینک چار شعبوں اور گڈ گورننس پر توجہ دے گا۔ 5G، لڑکیوں اور لڑکوں کی تعلیم، صحت، سبز اور صاف پاکستان فریم ورک کا حصہ ہوگا۔جوائنٹ چیف اکانومسٹ پی اینڈ ڈی بورڈ  ڈاکٹر امان اللہ نے پنجاب کی معاشی ترقی کی حکمت عملی، حکومتی کارکردگی اور پنجاب میں معاشی نمو کے منظرنامے پیش کیے۔ اس موقع پر چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ عبداللہ خان سنبل نے کہا کہ پنجاب ایک ترقی پسند صوبہ ہے جہاں ترقیاتی اقدامات کو ہمیشہ ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے صوبہ پنجاب کے ساتھ ورلڈ بینک کی حمایت کو سراہتے ہوئے خوش آئند قرار دیا۔ سیکرٹری پی اینڈ ڈی عمران سکندر بلوچ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پنجاب حکومت ہمیشہ ترقی اور سیکٹورل ورکنگ کی طرف مائل ہے۔