لاہور: صوبائی وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میاں خالد محمود کی زیر صدارت سیلاب کی تباہ کاریوں سے تحفظ اور امدادی کاروائیوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس

صوبائی وزیر نے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی افسران کو پابند کریں کے امدادی کاروائیوں کے لیے سامان کا از سر نوجائزہ لیں اور ہر طرح سے تسلی کے لیے تھرڈ پارٹی سے رائے لی جائے تاکہ بوقت ضرورت کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے

لاہور: صوبائی وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میاں خالد محمود کی زیر صدارت سیلاب کی تباہ کاریوں سے تحفظ اور امدادی کاروائیوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس

لاہور: صوبائی وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی میاں خالد محمود کی زیر صدارت سیلاب کی تباہ کاریوں سے تحفظ اور امدادی کاروائیوں کی تیاری کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج پی ڈی ایم اے کے ہیڈ آفس میں منعقد ہواجس میں ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی راجہ خرم شہزاد عمر نے صوبائی وزیر کو مختلف اضلاع میں سیلاب کی صورت میں امدادی کاروائیوں کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مون سون میں سیلاب کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضلعی دفاتر کو چوکنا کر دیا گیا ہے اس حوالے سے امدادی کاروائیوں کے دوران استعمال ہونے والے سامان کی چیکنگ اور آزمائشی مشقوں کا سلسلہ جاری ہے پی ڈی ایم اے کی ٹیمیں امدادی کاروائیوں کے لیے تیار ہیں۔

صوبائی وزیر نے ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی افسران کو پابند کریں کے امدادی کاروائیوں کے لیے سامان کا از سر نوجائزہ لیں اور ہر طرح سے تسلی کے لیے تھرڈ پارٹی سے رائے لی جائے تاکہ بوقت ضرورت کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مزید برآں جن اضلاع میں برساتی نالوں کی صفائی کا کام اب تک مکمل نہیں کیا گیا اسے ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ امدادی کاروائیوں میں رکاوٹ بننے والی تجاوزات کے خاتمے کو بھی یقینی بنایا جائے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کورونا کے سبب لوگ پہلے سے مشکلات کا شکار ہیں سیلاب کو مشکلات میں مزید اضافے کا سبب نہیں بننے دیں گے۔

جن علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا جائے گا وہاں قبل از وقت اطلاع اورآبادی کی محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت عوام کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ انتظامی سطح پر امدادی کاروائیوں کی تیاری کا ہر گز یہ مطلب نہیں کے سیلاب ضرور آئے گا۔ اس حوالے سے تمام کاروائیاں متوقع خطرے کے پیش نظر احتیاط کے طور پر کی جا رہی ہیں تاکہ ایسی کسی صورت میں لوگوں کو فوری ریلیف مہیا کی جا سکے۔