قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن کے مختلف شعبوں کے 30 جون 2022ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات کے لئے 417 ارب 28 کروڑ روپے کے 29 مطالبات زر کی منظوری دے دی، کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد

قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن کے مختلف شعبوں کے 30 جون 2022ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات کے لئے 417 ارب 28 کروڑ روپے کے 29 مطالبات زر کی منظوری دے دی، کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد

اسلام آباد :قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن کے مختلف شعبہ جات کے 30 جون 2022ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات کے لئے 417 ارب 28 کروڑ روپے سے زائد کے 29 مطالبات زر کی منظوری دے دی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی 397 کٹوتی کی تحریکیں کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی میں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کابینہ ڈویژن کے 30 جون 2022ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے اخراجات کے لئے 27 کروڑ 70 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 64 تحریکیں پیش کی گئیں۔

وزیر خزانہ نے ان کی مخالفت کی۔ شوکت ترین نے کابینہ کے اخراجات پورے کرنے کے لئے دو ارب چار کروڑ 80 لاکھ روپےکا مطالبہ زر پیش کیا، اپوزیشن کی جانب سے اس پر 19 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں جن کی وزیر خزانہ شوکت ترین نے مخالفت کی۔ شوکت ترین نے ہنگامی امداد اور بحالی کے اخراجات کے لئے 38 کروڑ 70 لاکھ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 9 تحریکیں پیش کی گئیں۔ شوکت ترین نے انٹیلی جنس بیورو کے لئے 8 ارب 3 کروڑ 40 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا۔

اس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی ایک تحریک پیش کی گئی جس کی وزیر خزانہ نے مخالفت کی۔ شوکت ترین نے اٹامک انرجی کے لئے 10 ارب 81 کروڑ 80 لاکھ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی پانچ تحریکیں پیش کی گئیں۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے ان کی مخالفت کی۔ وزیر خزانہ نے پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے 1 ارب 14 کروڑ 80 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا اس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی دو تحریکیں پیش کی گئیں جس کی وزیر خزانہ نے مخالفت کی۔ نیا پاکستان ہائوسنگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لئے 30 ارب 72 کروڑ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا اس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 16 تحریکیں پیش کیگئیں اس کی وزیر خزانہ نے مخالفت کی۔

شوکت ترین نے وزیراعظم آفس انٹرنل کے اخراجات کے لئے 40 کروڑ 10 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے 12 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں۔ وزیر خزانہ نے اس کی مخالفت کی۔ شوکت ترین نے وزیراعظم آفس پبلک کے اخراجات کے لئے 52 کروڑ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا اس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی نو تحریکیں پیش کیں۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کے اخراجات کے لئے 64 کروڑ 30 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا اس پر اپوزیشن کی جانب سے 16 کٹوتی کی تحریکیں پیش کی گئیں۔ شوکت ترین نے سرمایہ کاری بورڈ کے اخراجات کے لئے 36 کروڑ 70 لاکھ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 14 تحریکیں پیش کی گئیں۔ شوکت ترین نے وزیراعظم معائنہ کمیشن کے اخراجات کے لئے 6 کروڑ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 9 تحریکیں پیش کی گئیں۔

شوکت ترین نے شعبہ وا بازی کے اخراجات کے لئے ایک ارب 48 کروڑ 30 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 38 تحریکیں پیش کی گئیں۔ وزیر خزانہ نے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے لئے 8 ارب 7 کروڑ 80 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی 14 تحریکیں پیش کیں جن کی وزیر خزانہ نے مخالفت کی۔ وزیر خزانہ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اخراجات کے لئے 5 ارب 50 کروڑ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 23 تحریکیں پیش کی گئیں۔ شوکت ترین نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے لئے 88 کروڑ 40 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی دس تحریکیں پیش کی گئیں۔

وزیر خزانہ نے نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے لئے 11 ارب 68 کروڑ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا اس پر اپوزیشن نے 9 کٹوتی کی تحریکیں پیش کیں۔ انہوں نے سول سروس اکیڈمی کے لئے 63 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے شعبہ نیشنل سیکیورٹی کے اخراجات کے لئے 14 کروڑ 40 لاکھ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی چھ تحریکیں پیش کیں۔ وزیر خزانہ نے شعبہ تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اخراجات کے لئے 2 ارب 15 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا اس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 27 تحریکیں پیش کی گئیں۔ وزیر خزانہ نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اخراجات کے لئے 250 ارب روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی 6 تحریکیں پیش کیں۔

وزیر خزانہ نے پاکستان بیت المال کے اخراجات کے لئے 6 ارب 50 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا۔ اس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 13 تحریکیں پیش کی گئیں۔ وزیر خزانہ نے ایوی ایشن ڈویژن کے ترقیاتی اخراجات کے لئے 46 ارب 23 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی 27 تحریکیں پیش کی گئیں۔ وزیر خزانہ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے3 ارب 55 کروڑ 82 لاکھ روپے کا مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی تین تحریکیں پیش کیں۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے شعہ تخفیف غربت کے لئے 59 کروڑ 89 لاکھ مطالبہ زر ایوان میں پیش کیا جس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی 9 تحریکیں پیش کیں۔ وزیر خزانہ نے سپارکو کے اخراجات کے لئے 7 ارب 36 کروڑ 88 لاکھ روپے کا مطالبہ زر پیش کیا اس پر کٹوتی کی 9 تحریکیں پیش کی گئیں۔ شوکت ترین نے ایٹمی توانائی کی ترقی پر مصارف سرمایہ کے اخراجات کے لئے 27 ارب روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی دو تحریکیں پیش کیں۔’

وزیر خزانہ شوکت ترین نے پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کی ترقی پر مصارف سرمایہ کے لئے دو ارب روپے کا مطالبہ زر پیش کیا جس پر اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی ایک تحریک پیش کی گئی۔ وزیر خزانہ نے اس کی مخالفت کی۔ بعد ازاں سپیکر نے مطالبات زر اور کٹوتی کی تحریکیں ایک ایک کرکے ایوان میں پیش کیں۔ ایوان نے کثرت رائے سے اپوزیشن کی کٹوتی کی تحریکیں مسترد کرتے ہوئے کابینہ ڈویژن کے 29 مطالبات زر کی منظوری دے دی