’لاک ڈاؤن میں وہ زندگی میسر آئی جس کا تصور شادی سے پہلے کیا تھا‘ حرا مانی

اس وقت اتنا زیادہ لاک ڈاؤن شروع نہیں ہوا تھا یہ میرے لیے بھی نیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ اُس ویڈیو میں انھوں نے پاکستانیوں کی جو تعریف کی وہ نظر انداز کر دی گئی

 ’لاک ڈاؤن میں وہ زندگی میسر آئی جس کا تصور شادی سے پہلے کیا تھا‘ حرا مانی

میں یہی سوچتی تھی کہ ایک سادہ سی گھریلو بیوی کی زندگی ہو گی۔ جس کی سوچ لے کر میں نے شادی کی تھی لیکن وہ زندگی مجھے 12 سال بعد قرنطینہ میں ملی ہے۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان کی معروف اداکارہ حرا مانی کا جو آج کل کراچی میں لاک ڈاؤن سے متاثر افراد کی مدد کرنے کے باعث خاصی مقبول ہیں۔ حرا لاک ڈاؤن میں گزرنے والے روز و شب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’اس سے پہلے کی جو زندگی تھی وہ بہت ٹی وی، فلمی اور ڈرامائی دنیا تھی۔

لاک ڈاؤن میں مجھے اپنے بچوں کے لیے ٹائم مل گیا ہے۔ کس طرح صبح ہوتی ہے کب شام ہوتی ہے پتا ہی نہیں چلتا ہے۔‘ حرا نے کہا کہ کورونا لاک ڈاؤن میں انھیں وہ زندگی میسر آئی ہے جس کا تصور انھوں نے شادی سے پہلے کیا تھا۔  ’آپ ہمارے ساتھ یہ کیسے کرسکتی ہیں حلیمہ باجی!‘ ’ زندگی کے آٹھ سال ضائع کیے، بتایا بھی نہیں کہ شادی کر لی ہے مارچ میں دنیا بھر میں کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن شروع ہوا تو حرا امریکہ میں تھیں جہاں سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں انھوں نے پاکستانیوں کے مقابلے میں امریکیوں کو بزدل کہہ کر ان کا مذاق اڑایا تھا۔

حرا نے اعتراف کیا کہ انھوں نے امریکیوں کے لیے جو جملہ استعمال کیا وہ درست نہیں تھا۔ ’ میں نے ایک ایسا جملہ بولا جو مجھے نہیں بولنا چاہیے تھا۔ اس وقت اتنا زیادہ لاک ڈاؤن شروع نہیں ہوا تھا یہ میرے لیے بھی نیا تھا۔‘ انھوں نے کہا کہ اُس ویڈیو میں انھوں نے پاکستانیوں کی جو تعریف کی وہ نظر انداز کر دی گئی۔ جب ہمیں پتا چلا تھا کہ سونامی آنے والا ہے تو سب سی ویو پہنچے تھے۔ ہم لوگوں نے سنہ 1965 کی جنگ بھی دیکھی چھتوں پر کھڑے ہو کر۔

’ہم پاکستانی قوم ذرا نڈر سی قوم ہیں۔ جب ہمیں پتا چلا تھا کہ سونامی آنے والا ہے تو سب سی ویو پہنچے تھے۔ ہم لوگوں نے سنہ 1965 کی جنگ بھی دیکھی چھتوں پر کھڑے ہو کر۔ ’مجھے یاد ہے کہ جب زلزلہ آیا تھا تو میں اپارٹمنٹ میں ہوتی تھی اور ہم سارے نیچے اتر گئے تھے اور ہنسی مذاق کر رہے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا ایک وقت تھا جب کراچی میں ہڑتالیں ہوتی تھیں اور سب بند ہوتا تھا، یہاں سے فائرنگ وہاں سے فائرنگ۔ تو ہم لوگ تو بہت ہمت والی قوم ہیں اور میرے خیال میں ہماری ہمت کی داد تو ساری دنیا میں دی جاتی ہو گی۔

امریکہ سے واپسی پر حرا اور مانی دونوں نے مل کر لاک ڈاؤن میں محصور غریب لوگوں کی مدد کا بیڑا اٹھایا اور راشن تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ رضاکارانہ طور پر شروع کیے گئے اس کام کے بارے میں حرا نے بتایا کہ وہ اور مانی کافی عرصے سے ایک گاڑی خریدنے کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔ ’ہم اس وقت بات کر رہے تھے کہ اس دفعہ ہم نے کوئی نہ کوئی 'فورچونر' تو بُک کرانی ہی کرانی ہے۔ لیکن پھر وہی ہوا کہ جب میں امریکہ سے واپس آئی اور اس طرح کے حالات ہوئے تو میں نے مانی کو کہا کہ اب نکال لیتے ہیں اس میں سے پیسے۔ کرتے ہیں یار کچھ۔ یہ بھی کر کے دیکھتے ہیں۔ حرا نے اعتراف کیا کہ انھوں نے امریکیوں کے لیے جو جملہ استعمال کیا وہ درست نہیں تھا

ابھی ان دونوں میاں بیوی کی جانب سے خیرات بانٹے کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک بار پھر تنقید شروع ہو گئی۔ اس بار خیرات کے لیے بنائے گئے راشن کے تھیلوں کے ساتھ حرا اور مانی کی تصویریں گردش کرتی رہیں اور کہا گیا کہ انھوں نے سستی شہرت کے لیے یہ کام کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بحث بھی چھڑ گئی کہ آیا خیرات کرتے وقت تشہیر درست ہے کہ نہیں؟

اس معاملے پر حرا نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’جب میں اچھے برینڈڈ کپڑے پہنتی ہوں، کسی بڑے جہاز میں سفر کرتی ہوں، اپنے بچوں کے ساتھ کسی بھی تفریحی مقام پر جاتی ہوں اور جب میں ایوارڈ جیتتی ہوں تو تصویر لگاتی ہوں۔ ’تو اب جب میں یہ اچھا کام کر رہی ہوں تو اس کی بھی میں نے تصویر لگائی تاکہ آپ لوگ بھی میرا اس مقصد میں ساتھ دے سکیں۔