کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ انتہائی غریب ممالک کے لیے قومی اور عالمی سطح پر مالیاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا اجلاس سے خطاب

کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ انتہائی غریب ممالک کے لیے قومی اور عالمی سطح پر مالیاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا اجلاس سے خطاب

اقوام متحدہ  :اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ای سی او ایس او سی) کے صدر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیرا کرم نے زور دیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ انتہائی غریب ممالک کے لیے قومی اور عالمی سطح پر مالیاتی میکانزم کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے آئندہ سال جنوی میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں سب سے کم ترقی پزیرممالک ( ایل ڈی سی) پر اقوام متحدہ کی منعقد ہونے والی 5 ویں کانفرنس کے لیے تیاری کرنے والی کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ ایل ڈی سی پر توجہ وقتی ہے ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کمیٹی کمزور ترقی پزیر ممالک میں پائیدار ترقی ، مستحکم بحالی اور ترقی کے اقدامات کے لیے اتفاق رائے کے حصول میں کامیاب ہو جائے گی ۔

انہوں نے کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ دنیا کا کوئی ملک کورونا وائرس کی وبا سے محفوظ نہیں ہے لیکن اس وبا سے ترقی پزیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو ترقی کے لیے ممکنہ طور پر مسلسل کوششیں کر رہے ہیں جس کے لیے انہیں مسلسل مدد کی ضرورت ہے۔

کم ترقی یافتہ ممالک کو کورونا وائرس سے بچائو کے لیے ویکسین کی 1.3 ارب خوراکوں کی ضرورت ہے لیکن ویکسی نیشن کی موجودہ 2 فیصد سے کم شرح کے ساتھ ویکسین کی تیاری اور سپلائی کو فوری طور پر بڑھانے کی ضرورت ہے ، رعایتی قیمت پر فوری اتفاق کریں اور عالمی ادارہ صحت کے کورونا ویکسین کی فراہمی کے لیے شروع کیے گئے پروگرام کوویکس کے تحت ویکسین فراہم کی گئی تاہم اس سلسلے میں 19 ارب ڈالر کی فنڈز جاری نہیں کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ کم ترقی یافتہ ممالک کی تقریباً 39 فیصد آبادی میں مجموعی غربت 2.4 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے یہ کہ غربت میں کمی لانے کے لیے براہ راست نقد امداد کے پروگرام ، سماجی تحفظ کے نیٹ ورک اور دیہی غربت کے خاتمے کی کوششوں کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے باضابطہ ترقی میں مدد ( او ڈی اے)کے وعدوں کو پورا کرنے ، مالی مدد، قرض کی منسوخی اور تشکیل نو ، ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے مزید معاونت اورنئے ایس ڈی آر کےلئے مختص 650 ارب ڈالر سے اضافی اخراجات کی ضرورت پر زور دیا نیز کورونا بحران سے بہتر طور پر بحالی کے لیے پائیدار انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہو گا جو پائیدار ترقیاتی اہداف لیے بہت ضروری ہے ۔

پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ مساوی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کرنا ہو گا جبکہ ایک جامع مالیاتی فن تعمیر ، ترقی پر مبنی عالمی تجارتی نظام اور ایک منصفانہ بین الاقوامی ٹیکس نظام کو عملی جامہ پہنایا جانا چاہیئے اور اس کے ساتھ ساتھ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے اور سائنس ، ٹیکنالوج میں ترقی اور جدت پسند ی کے لیے جامع عالمی تعاون نہایت اہم ہے ۔ ا ٓئندہ سال جنوری میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں دنیا بھر کے ممالک کے سربراہان شرکت کریں گے