نائیجیریا میں ایک پاکستانی سمیت متعدد افراد اغوا

نائیجیریا میں ایک پاکستانی سمیت متعدد افراد اغوا

کراچی: افریقی ملک نائیجیریا میں ایک پاکستانی سمیت متعدد افراد کو اغوا کرلیا گیا ہے، اغوا کرنے والوں نے اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے چھ دن کا وقت دیا ہے ۔

یہ بات نائیجریا میں اغواء ہونے والے پاکستانی نوجوان ابوذر محمد افضل نے اپنے ویڈیو بیان میں بتائی ہے۔ ابوذر محمد افضل نے بتایا کہ اغوا کاروں نے واضح کیا ہے کہ اگرچھ دن میں مطالبات پورے نہ ہوئے تو مغویوں کو قتل کر دیا جائے گا۔

 ابوزر محمد افضل نے بتایا کہ ہمیں 28 مارچ کو اغوا کیا گیا، میں جے میرینز نامی کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ مجھ سمیت 62 لوگوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ ہم بہت مشکل حالات میں ہیں۔ فوری مدد کی جائے۔

  انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان، حکومت نائیجیریا اور عالمی برادری ہماری رہائی کے لیے فوری کوششیں کریں۔ابوذر کی والدہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی ہے کہ میرے بچے کو رہائی دلوائیں۔ خدارا حکومت پاکستان فوری کارروائی کرے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے مغوی ابوزر کے والد شیخ محمد افضل نے ایکسپریس کو بتایا ابوزر نے فیصل آباد سے ہی مائیکرو بیالوجی میں پی ایچ ڈی کیا ہوا اور وہ غیرملکی کمپنی جے میرینز نائیجیریا میں جنرل منیجر کی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسے دیگر افراد کے ساتھ 28مارچ کو اغوا کرنے کے بعد اغوا کاروں نے نائجیرین حکومت سے اپنے لوگوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے پاکستانی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کو ایک ماہ قبل اپنے بیٹے کی مدد اور اغوا کاروں کے چنگل سے آزاد کرانے کی درخواست دی تھی لیکن تاحال دونوں وزارتوں کی جانب سے نہ تو کسی نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی کسی ایکشن پلان سے آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ ابوزر کے والدین بہن بھائیوں کے ساتھ ان کی اہلیہ اور دوبچے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نائجیریا کے ہم منصب سے بات چیت کرکے ابوزر کی رہائی کے لیے کوششیں کریں۔