پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ’کے ٹو‘ سر کرنے کے لیے پُرعزم

پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ’کے ٹو‘ سر کرنے کے لیے پُرعزم

کراچی: آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹی سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ’کے ٹو‘ سر کرنے کیلئے کمرکس لی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستانی پہلی کوہ پیما خاتون نے کے ٹو کے نام سے معروف دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ماؤنٹ گوڈون آسٹن کو اگلے ماہ جون میں سر کرنے کی مہم پر نکلیں گی۔

 قراقرم ریجن میں واقع 8 ہزار 611 میٹر بلند چوٹی کو سر کرنے والی پہلی  پاکستانی کوہ پیما بننے کی خواہاں نائلہ کیانی دنیا کی 13 ویں بلند ترین چوٹی گاشربرم ٹو کو سر کر چکی ہیں، جس کی بلندی8 ہزار 35  میٹر ہے۔

 دریں اثنا  کے ٹو کی مہم جوئی کے لیے بارڈ فاؤنڈیشن نے نائلہ کیانی کو اسپانسر کرنے کا اعلان کیا ہے، جو دنیا بھر میں کھیلوں کے فروغ اور مقامی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے سہولیات فراہم کرتی ہے۔

دبئی میں مقیم پاکستانی بینکر شوقیہ باکسر نائلہ کیانی  نے پہاڑی علاقوں سے اپنی محبت کے اظہار کے طور پر 2018 میں کے ٹو بیس کیمپ پر اپنی شادی کی تقریب منعقد کی تھی اور اپنے بچے کی پیدائش کے فوری بعد  گاشربرم ٹوکو سر کرکے ہمت اور عزم کی مثال بنی تھیں۔

صدارتی ایوارڈ یافتہ نائلہ کیانی نے اسپانسرشپ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بلند عزائم کا اظہار کیا ہے۔