ملک میں سکولوں سے باہربچے،کم شرح خواندگی اورکوویڈ سے تعلیم کو سنگین نقصان ہوا،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا جائیکا کمیٹی میٹنگ سے خطاب

 ملک میں سکولوں سے باہربچے،کم شرح خواندگی اورکوویڈ سے تعلیم کو سنگین نقصان ہوا،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا جائیکا کمیٹی میٹنگ سے خطاب

لاہور:وفاقی وزیر تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے کہ ملک میں سکولوں سے باہر بچوں کا ہونا،کم شرح خواندگی اورکوویڈ کی وبا کے دوران تعلیم کا نقصان سنگین مسائل میں شامل ہیں جن کے حل کیلئے حکومت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہے۔

وہ جمعہ کے روز یہاں مقامی ہوٹل میں جاپان انٹرنیشنل کارپوریشن ایجنسی( جائیکا )کی پہلی جوائنٹ کوارڈی نیشن کمیٹی میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر پاکستان میں جائیکاکے چیف نمائندگان، صوبائی سیکرٹریز مینجمنٹ سمیت مختلف اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ سکول نہ جانے والے 78فیصد بچوں کی عمریں 10سے 16سال کے درمیان ہیں جنہیں سکولوں میں واپس لانا ایک چیلنج ہے۔

انہوں نے جائیکا کے تعلیم کے حوالے سے مستقبل کے منصوبوں کو سراہا اور بتایا کہ غیر رسمی تعلیم صوبائی معاملہ ہے ،صوبائی حکومتوں کو چاہئے کہ وہ غیر رسمی تعلیم پر بھی توجہ دیں جس کیلئے ہمیں بہترین رابطوںکی ضرورت ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں گھر پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے ،بڑی عمر کے افراد کو تعلیم دینے ، لرننگ لیول کو کئیر کرنے اور لرننگ کیلئے ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹیچرز کی ڈیوٹی پر موجودگی اور لیکچر کی مانیٹرنگ کیلئے میکنیزم تیار کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ کوویڈ کے دوران ٹیلی سکول سسٹم شروع کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ساتھ لرننگ ٹی وی چینلز شروع کرنے کیلئے کام کیا۔

انہوں نے جائیکا کے وفاقی اور صوبائی لٹریسی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ کام کوسراہا۔انہوں نے کہا کہ حکومت سکولوں سے باہر بچوں کو سکول لانے کے ساتھ ساتھ ایک قومی نصاب کیلئے کام کررہی ہے جس سے ملک میں تعلیم کے میدان میں انقلاب آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ جوبچے 10سال کی عمر میں غربت یا کسی اور وجہ سے سکول چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ان کیلئے اسلام آباد میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے جس میں ان بچوں کو سکلڈ بیسڈ ٹریننگ فراہم کی جاتی ہے تاکہ والدین ان کو ہنر مند بنانے کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی فراہم کرسکیں ۔

انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کو بھی جنرل ایجوکیشن کا حصہ ہونا چاہئے علاوہ ازیں ہمیں ریسرچ بیسڈ پالیسی کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے فیصلے بھی ریسرچ کی بنیاد پر ہونے چاہیں،اسی طرح اسیسمنٹ کے طریقہ کو بھی از سرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوویڈ 19کے دوران فاصلاتی تعلیم کی اہمیت میں اضافہ ہوا،حکومت نان فارمل ایجوکیشن پر توجہ دے رہی ہے تاکہ ملک میں تعلیم کے ذریعے آگے ترقی دی جاسکے۔