نو لکھا چرچ میں فادر فرانسس ندیم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین اور دیگر مذہبی رہنماﺅں کی کثیر تعداد میں شرکت  تمام رہنماﺅں نے فادر فرانسس ندیم کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا

نو لکھا چرچ میں فادر فرانسس ندیم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

لاہور: کو ہارٹ اٹیک کی بناءپر وفات پا جانیوالے فادر فرانسس ندیم کی یادمیں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد لاہور میں قائم نو لکھا چرچ میں کیا گیا، جس میں صوبائی وزیر انسانی حقوق واقلیتی امور اعجاز عالم آگسٹین،آرچ بشپ سبسٹین فرانسس شاہ،ریورنڈ ڈاکٹرمجید ایبل ، متعدد پادریوں، دیگر مسیحی فرقوں کے قائدین اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اعجاز عالم آگسٹین نے کہاکہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج ہم سب ایک قابل رشک اور پاکستان بھر میں امن و محبت قائم کرنے والی ہستی سے محروم ہو چکے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ فادر ندیم نے تمام زندگی اپنی خدمات بہت عاجزی کے ساتھ انجام دیں اور پیغام امن و محبت کو دوسرے عقائد کے لوگوں تک بھی بڑے احسن انداز میں پہنچایا۔  وہ بلا شبہ امن کے سفر میں شامل تمام لوگوں میں منفرد حیثیت کے حامل تھے اور انہوں نے ہمیشہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ملکر ملک کے کونے کونے میں پیار و محبت کو پروان چڑھایا۔صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ان کا وژن پاکستان میں امن و ہم آہنگی کو فروغ دینے اور تقویت پہنچانا تھا اور ہم سب پر فرض ہے کہ ان کے مشن کو جاری رکھیں ۔

لاہور کے آرچ بشپ فرانسس شا نے کہا کہ فرانسس ندیم نہ صرف عیسائیوں میں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں میں بھی ایک نمایاں مقام کے حامل تھے جبکہ ان کی خدمات کا سفر تین دہائیوں تک پہنچ جاتا ہے۔  انہوں نے اپنی تمام تر ذمہ داریوں کے ساتھ پاکستان میں بسنے والے ہر فرقے میں امن و محبت کے حوالے سے لازوال داستان رقم کی ہے جسکی باز گشت کئی دہائیوں تک سنی جا سکے گی۔دیگر شرکاءنے بھی فادر ندیم فرانسس کی خدما ت کو خراج تحسین پیش کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام دیگر مذاہب کے درمیان نفرتوں کے خاتمے کو انکا مشن سمجھتے ہوئے آگے بڑھاتے رہیں گے تاکہ ہر طرف امن و محبت قائم کیا جا سکے۔