پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے 58 پیسے کا اضافہ

اس اقدام نے کئی افراد کو حیرت میں ڈال دیا کیوں کہ یہ شیڈول سے ہٹ کر تھا اور معمول کے مطابق آئل سیکٹر ریگولیٹر کی جانب سے کوئی سمری بھجوانے کی وجہ سے نہیں ہوا

پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے 58 پیسے کا اضافہ

اسلام آباد: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک 27 سے 66 فیصد یعنی 25 روپے 58 پیسے تک کا اضافہ کردیا جس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام نے کئی افراد کو حیرت میں ڈال دیا کیوں کہ یہ شیڈول سے ہٹ کر تھا اور معمول کے مطابق آئل سیکٹر ریگولیٹر کی جانب سے کوئی سمری بھجوانے کی وجہ سے نہیں ہوا۔ زیادہ تر تجزیہ کاروں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ یہ اقدام فراہمی کے سلسلے میں حالیہ تعطل کو دور کو کرنے کے لیے اٹھایا گیا جو ملک کے کئی حصوں میں سنگین فقدان کا سبب بنا اور اس کی سب سے بڑی وجہ حکومت اور صنعت کے درمیان قیمتوں کا تنازع تھا۔

اس ضمن میں ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ قیمتوں کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے معمول کے مطابق سمری بھجوانے کا انتظار کیے بغیر 4 روز قبل ہی بڑھا دیا گیا تا کہ بین الاقوامی قیمتوں کے اثرات فوری طور پر عوام کو پہنچا سکے اور نظرِ ثانی شدہ قیمتیں 31 جولائی تک نافذ العمل رہیں گی۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکام کو خدشہ تھا کہ قیمتوں میں معمولی سے اضافے کی توقع میں اگر پیٹرول کی خریداری میں ذرا سا بھی اضافہ ہوا تو ملک میں پیٹرول پمپ خشک ہوجائیں گے کیوں کہ سپلائی چین پہلے ہی بہت معمولی فائدے پر کام کررہی تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے کی توقع میں کمپنیوں اور ریٹیلیرز نے پہلے ہی ملک کے کچھ علاقوں میں فروخت کو کم کردیا تھا تا کہ ’ذخیرے سے فائدہ‘ اٹھایا جاسکے۔

تاہم تیل کی صنعت کے سینئر ذرائع کا کہنا تھا ک یہ شاید حکومت کے لیے بہتر طور پر کام نہ کرے، پڑوسی ممالک کو پیٹرول کی غیر قانونی اسمگلنگ آئندہ ایک سے 2 ہفتوں کے لیے رک جائے گی۔

شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان کا کہا تھا کہ ہمارے ہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں افغانستان اور بھارت سے کم تھیں جس کے نتیجے میں کچھ مصنوعات ان ممالک کو اسمگل کی جارہی تھیں۔ قیمتوں میں اس اضافے کا اعلان وزارت خزانہ نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے بتائی گئی درآمدی قیمت کی بنیاد پر پیٹرولیم ڈویژن اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد کیا۔

موجودہ ٹیکس ریٹ کی بنیار اور پی ایس او کی درآمدی لاگت کی بنیاد پرپیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 45 روپے ہے جو زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ ڈیزل کی ایکس ریفائنری لاگ 43 روپے فی لیٹر ہے جو زیادہ تر بھاری ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری مثلاً ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا موجودہ اسٹاک 8 روز تک ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے جبکہ سندھ میں پیٹرول کا 23 روز جبکہ ڈیزل کا 13 روز کا اسٹاک موجود ہے۔

یوں حکومت پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 47 روپے فی لیٹر تک ٹیکس وصول کررہی ہے کیوں کہ دونوں پر پیٹرولیم لیوی زیادہ سے زیادہ 30 روپے فی لیٹر کی سطح تک لیوی عائد کردی گئی ہے۔ خزانہ ڈویژن سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 25 روپے 58 پیسے کا اضافہ کیا جارہا ہے جس کے بعد اس کی نئی قیمت 100 روپے 10 پیسے ہوگی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 21 روپے 31 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے اور اس کی نئی قیمت 101 روپے 46 پیسے مقرر کردی گئی ہے۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا کہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 23 روپے 50 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 17 روپے 84 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا جارہا ہے۔ اس اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 59 روپے 6 پیسے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی 55 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے اور ان نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ نوٹی فکیشن میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات مجموعی طور پر 56 روپے 89 پیسے فی لیٹر تک سستی کی تھیں۔ 25 مارچ سے یکم جون تک پیٹرول 37 روپے 7 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا، اسی عرصے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 42 روپے 10 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی جبکہ مٹی کا تیل 56 روپے 89 پیسے اور لائٹ ڈیزل 39 روپے 37 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا۔ 31 مئی کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں مزید 7 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اس کی قیمت 74 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔

تاہم اگلے ہی روز یعنیٰ یکم جون سے ملک بھر میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہوگئی تھی۔ اسی روز پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ارسال کیے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ موگاز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی جانب سے یکم جولائی 2020 سے پیٹرولیم مصنوعات میں ہونے والے ممکنہ اضافے کا مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ملک بھر میں ریٹیل آؤٹ لیٹس پر مصنوعات کی فراہمی میں کمی کی جاسکتی ہے۔

اس میں کہا گیا تھا کہ بحرانی صورتحال سے بچنے کے لیے ریگولیٹر ہونے کی حیثیت سے اوگرا کو او ایم سیز کو ملک میں ہر ریٹیل آؤٹ لیٹ پر اسٹاکس کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کرے۔3 جون کو اوگرا نے پیٹرول کی تعطل پر 6 آئل مارکیٹنگ کمپنیز کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جبکہ پیٹرول ذخیرہ کرنے کی شکایات پر ملک بھر میں آئل ڈپوز پر چھاپے بھی مارے گئے۔ تاہم پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کی جاسکی تھی۔