بچوں کو مطالعہ کرنے کا عادی بنائیں

بڑے تو پھر کتابوں کا مطالعہ کرتے نظر آجاتے ہیں لیکن بچے مطالعہ کرنے سے بھاگتے ہیں۔ والدین بھی اس بات پر خفا نظر آتےہیں کہ ان کے بچے کو مطالعہ کا شوق اور عادت نہیں ہے

بچوں کو مطالعہ کرنے کا عادی بنائیں

آجکل کی تیز رفتار دنیا اور ٹیکنالوجی کی جدت نے انسان میں مطالعہ کا شوق کافی حد تک کم کردیا ہے۔ بڑے تو پھر کتابوں  کا مطالعہ کرتے نظر آجاتے ہیں لیکن بچے مطالعہ کرنے سے بھاگتے ہیں۔ والدین بھی اس بات پر خفا نظر آتےہیں کہ ان کے بچے کو مطالعہ کا شوق اور عادت نہیں ہے۔ مگر کہا جاتا ہے کہ بچو ں کو کسی بھی بات کا عادی بنانا ہو تو بچپن سے ہی اس کی تاکید کرنی چاہیے اور یہی تکنیک مطالعہ کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے۔ 

اگر بچپن سے ہی بچوں کی کتاب سے دوستی کروادی جائے تو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہےکہ بڑے ہوکر ان میں یہ عادت پختہ ہوجائے گی اور آپ کو شکایت یا ناراضی کا موقع نہیں ملےگا۔ لہٰذا جس طرح آپ بچوں کو بچپن ہی سے اخلاقیات کا درس دیتے ہیں، بالکل اسی طرح مطالعہ میں بھی ان کی دلچسپی پیدا کرنا ضروری ہے۔  دنیا بھر کے کامیاب افرادکی بائیو گرافی کا مطالعہ کریں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان افراد میں کافی باتیں مشترک ہوتی ہیں۔ ان عادات میں سب سے خاص سیکھنے کی عادت ہے، کچھ ’نیا‘ سیکھنے کا جنون، جس کےتحت یہ لوگ مختلف کتابوں کامطالعہ کرتے ہیں اور مطالعہ کا یہ شوق ان کی کامیابی کی ضمانت بن جاتا ہے۔ اسکولوں کی تعطیلات کی وجہ سے یہ نادر موقع ہے کہ بچوں کی کتاب سے دوستی کروائی جائے۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کو مطالعے کا شوقین بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو5سال کی عمر سے ہی پڑھنے کا عادی بنانا ہوگا۔ آئیے جانتے ہیں کہ بچوں میں کس طرح مطالعہ کی عادت پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔

خود بھی مطالعہ کریں

گھر یا آفس کے کاموں سے فارغ ہوکر اکثر والدین بچوں سے تھوڑی سی بات چیت کرنے کے بعد موبائل فون میں مگن ہوجاتے ہیںجبکہ بچے ٹی وی، ویڈیوگیمز یادوسرے کھیلوں میں مصروف نظرآتے ہیں۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے مطالعہ کے شوقین بنیں تو سب سے پہلے آپ کواپنے اندر تبدیلی لانی ہوگی۔ فارغ اوقات میں موبائل فون یا سوشل میڈیاپر وقت صرف کرنے کے بجائے کہانی کی کوئی اچھی سی کتاب پڑھیں اور بچوں کوبھی پڑھ کر سنائیں، اس سے بچوں میں یہ تاثر قائم ہوگا کہ ان کے والدین فارغ وقت میں مطالعہ کرتے ہیں۔ بچوں کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ وہ ہرکام میں اپنے بڑوں کی نقل کرتے ہیں۔ والدین کی مطالعہ کی عادت اور بچوں کےذہن میں کتاب کی اہمیت اجاگرکرنے سےان میں مطالعہ کارحجان پیداہو گا اوریہ رجحان کچھ عرصے بعد شوق اور پھر ذوق میں تبدیل ہوجائےگا۔

مطالعہ کا کمرہ بنائیں

گھرمیںمطالعہ کا کمرہ بچوں میں مطالعہ کا شوق پروان چڑھائے گا۔ لازمی نہیں کہ لائبریری بنوائی جائے، تاہم اگر گھر چھوٹا ہےتو بک شیلف یا کارنر شیلف بنواکر میز اورکرسی کے ساتھ مطالعہ کی جگہ بنائی جاسکتی ہےہے۔ جب بچے آپ کو وہاں مطالعہ کرتے دیکھیں گے تو ان کا بھی آپ کے ساتھ اس حصے میں بیٹھ کر کچھ سننے اور پڑھنے کادل چاہے گا۔ بچوں کے روم میں کھلونوں والے شیلف کے ساتھ بک شیلف کا اضافہ کرکے ان کی دلچسپی کی کتابیں اس میں رکھیں۔جب بچوں کی بار باراپنی من پسند کتابوں پر نظر پڑے گی توان کا انھیںدوبارہ پڑھنے کا دل کرے گا۔

مطالعہ کا وقت مقرر کرنا

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے میں بچپن سے ہی مطالعہ کا شوق پیدا ہوتو آپ روزانہ تھوڑا سا پڑھیں مگرباقاعدگی سے پڑھیں۔ دن کے فارغ اوقات میں سے ایک یا آدھا گھنٹہ مطالعہ کےلیے وقف کریں۔اکثر والدین کتابوں کے مطالعہ کے لیے بیڈ ٹائم (سونے کا وقت )مقرر کرتے ہیں، یہ وہ وقت ہوتا ہےجب آپ دنیا کے تمام جھمیلوں سے فارغ ہوکر اپنے بچے کے ساتھ پرسکون انداز میں مطالعہ کرسکتے ہیں۔

پسندیدہ کتابیں بار بار پڑھیں

اکثر کتابیں جوآپ پہلے پڑھ چکے ہوتے ہیں انھیںگھر میں لانے اوربچوں کو ان کی کہانیاں سنانے میں آپ کی خاص دلچسپی نہیں ہوتی۔ہربار کچھ نئی چیز پڑھنےکی خواہش ہوتی ہےلیکن بچوں کے لیے یہ نہ سوچیں کہ آپ نے کیا پڑھا ہے اورکیا نہیں، جو کتاب بچوں کو مطالعہ کے شوق کی جانب لاسکے اسے بار باربھی پڑھنا پڑے تویہ عمل دہراتے رہیں۔ 

بچوں کوحقیقی زندگی اور مطالعہ کے درمیان ربط پیدا کرنا سکھائیں۔ مثال کے طور پر کسی ناکامی کی صورت میں انھیں کامیاب انسان کی بائیوگرافی پڑھ کر سنائیں یا انھیں اپنے مسائل کا حل کتابوں میں تلاش کرنا سکھائیں، ان کے سوالوں کے جواب اور ان کی وضاحت کے لیے کسی کتاب کا حوالہ دیںاور انھیں معلومات فراہم کریں کہ دنیا میں کس کس طرح کے موضوعات پر کتابیں موجود ہیں۔

زبردستی نہ کریں

بچوں پر کتابیں پڑھنے یا کہانی سننے کے لیے کبھی دباؤ نہ ڈالیں ۔اگر بچہ خوش ہوکر کتا ب پڑھنا یا سننا چاہے تو ٹھیک ہے ورنہ جس دن وہ کتاب یا مطالعہ سے اکتا یا ہوا محسوس ہو تو اس پر زبردستی نہ کریں۔ آپ کا زبردستی کرنایا ڈرانا دھمکانا بچے کو مطالعہ سے دور لے جائے گا اور اگراس کا رجحان کسی دوسری جانب منتقل ہوگیا تو مطالعہ کی عادت ڈالنا مشکل ہوجائے گا۔

کتابوں پر گفتگو کریں

جب آپ کا بچہ کسی کتاب کو مکمل پڑھ لے تو اس سے کتاب کے موضوعات پر لازمی گفتگو کریں، اس سے پوچھیں کہ اسے کتاب کا کون سا حصہ زیادہ پسند آیا اور اس کی کیا وجہ ہے۔یہ تمام گفتگو آپ کے بچے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گی اور مطالعے میں اس کی دلچسپی بھی بڑھائےگی۔