طیارہ حادثہ، پائلٹس اور پی آئی اے انتظامیہ آمنے سامنے

طیارہ حادثہ، پائلٹس اور پی آئی اے انتظامیہ آمنے سامنے

پی آئی اے طیارہ حادثہ کی تحقیقات میں نئے انکشافات ‘ پائلٹس اور پی آئی اے انتظامیہ آمنے سامنے آگئے ‘ایئر ٹریفک اور اپروچ کنٹرولرز نے انکشاف کیا ہے کہ حادثے کا شکار طیارے کے کپتان نے بار بار ہماری ہدایات کو نظر انداز کیا جو حادثے کا سبب بناجبکہ پاکستان ایئرلائن پائلٹس ایسوسی ایشن (پالپا)کا کہناہے کہ طیارہ حادثے کی تحقیقات کو غلط رخ دے کر اصل کرداروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

وزیر اعظم اور مشیرہوا بازی شفاف تحقیقات تک موجودہ انتظامیہ کو غیر فعال کریں‘ تحقیقات کیلئے بین الاقوامی ایوی ایشن ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔  تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں مزید انکشافات سامنے آئے ہیں ایئرٹریفک کنٹرولر اور اپروچ کنٹرولرنے تحقیقاتی ٹیم کو اپنے تحریری جواب میں بتایاہے کہ جہاز کے کپتان نے بار بار ہماری ہدایات کو نظرانداز کیا جس کی وجہ سے حادثہ رونما ہوا۔

کپتان نے لینڈنگ سے 10 ناٹیکل میل پر دی گئی ہدایت کو بھی نظر انداز کردیا، کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل جہاز کی اونچائی 1800 فٹ ہونی چاہئے تھی لیکن کپتان اس وقت طیارے کو 3000 فٹ اونچائی پر اڑا رہا تھا باربار ہدایت پر بھی کپتان نے کہا کہ وہ لینڈنگ سے پہلے اونچائی اور اسپیڈ کو کنٹرول کرلے گا تاہم ایسا نہیں ہوا۔ 

جواب میں کہا گیا ہے کہ کپتان لینڈنگ کے وقت اونچائی اور اسپیڈ کنٹرول کرتے وقت لینڈنگ گیئر کھولنا بھول گیا‘جہاز کے کپتان نے پہلی بار لینڈنگ گیئر کھولے بغیر طیارہ لینڈ کرادیا، کپتان نے جہاز کو لینڈنگ کرائی تو گیئر نہ کھلنے کی وجہ سے جہاز کے دونوں انجن رن وے پر ٹکرائے اور تین بار رن وے سے رگڑ کھائی جس کی وجہ سے چنگاریاں اٹھیں اور کپتان نے جہاز کو دوبارہ ٹیک آف کرادیا۔

جہاز کے کپتان نے دوبارہ لینڈنگ کے وقت بتایا کہ جہاز کے انجن کام کرنا چھوڑ گئے تاہم کپتان نے ایمرجنسی لینڈنگ کا نہیں بتایا اور کہا کہ وہ پرسکون ہے دوسری جانب پالپا کا کہنا ہے کہ ہمارا خدشہ صحیح ثابت ہورہا ہے اور انتظامیہ واقعہ کی شفاف تحقیقات کے حق میں نہیں تحقیقات کو غلط رخ دے کر اصل کرداروں کو بچانے کی کوشش ہورہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ انجن کے رن وے پر رگڑ کھانے کی اطلاع پائلٹ کو نہ دینا اور ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے طویل روٹ دینا قابل تشویش ہے جس کی تحقیق لازم ہے۔ترجمان پالپا کے مطابق اس کڑے وقت میں پنڈورا باکس نہیں کھولنا چاہتے، حادثے کی پہلی اور دوسری لینڈنگ کی تفصیل کو ملا کر غلط رنگ دیا جارہا ہے، شہید پائلٹ کے والد سے کی گئی تحقیقات لیک نہ کرنے کے وعدے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔