سائبر بُلنگ سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

ٹیکنالوجی گیجٹس جہاں انسان کو مختلف طرح کی آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرتے ہیں

اکیسویں صدی کو ٹیکنالوجی کادور کہا جاتا ہے۔ یہ ایسا دور ہے جس میں کسی بھی شخص کے لیے اسمارٹ فون کے بغیر زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی گیجٹس جہاں انسان کو مختلف طرح کی آسانیاں اور سہولتیں فراہم کرتے ہیں، وہیں آن لائن ہراسانی میں بھی اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق2017ء میں41فیصد امریکی آن لائن ہراسانی کا شکار ہوئے۔ اس کے لیے کسی مخصوص طریقہ کار کے بجائے مختلف آن لائن ہراسانی کے طریقوں کا استعمال کیا گیا۔ سائبر بلنگ کے ذریعے امریکی نوجوانوں اور ٹین ایجرزکو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ آدھے سے زائد نوجوانوں کو آن لائن ہراسگی کے مختلف طریقوں کو اپناتے ہوئے ڈرایا دھمکایا گیا جب کہ باقی کو سائبر بلنگ کے ذریعے ہراساں کیا گیا۔

سائبر بلنگ

سائبر بلنگ ہراسانی کی ہی ایک قسم ہے، جس کے تحت کسی بھی شخص کو، چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی، آن لائن ہراساں کیا جاتا ہے ۔ سائبر بلنگ کا مطلب الیکٹرانک کمیونی کیشن کے ذریعے کسی بھی شخص کو ایذا پہنچاناہے ۔ سائبر بلنگ کے کئی طریقے ہیں جیسے کہ کسی کا مذاق اُڑانا، بے جا تنقید کرنا، نجی گفتگو کو عام کرنا، تصاویر کے ذریعے بلیک میل کرنا، گروہ بندی کے ذریعے نفرت کے پیغامات یا کمنٹس لکھنا یا پھر کوئی نفرت یا دھمکی آمیز ٹرینڈ سیٹ کرنا۔ اس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع مثلاً فیس بک اور ٹوئٹر وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔