اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکیر کی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ، مسئلہ فلسطین، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکیر کی وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ، مسئلہ فلسطین، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال

اسلام آباد :اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکان بوزکیر نے جمعرات کو وزارتِ خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔دفتر خارجہ کے بات چیت کے دوران مسئلہ فلسطین، بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کی صورتحال، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

وزیرخارجہ نے جنرل اسمبلی کے صدر کو وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا اور فلسطین کے حوالے سے جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لئے ان کی بھرپور کاوشوں کو سراہا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی مظالم رکوانے کیلئے “سیز فائر “پہلا مقصد تھا جس میں کامیابی حاصل ہوئی۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اصل مقصد، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہے۔مسئلہ فلسطین کو مستقل بنیادوں پر حل کیے بغیر مشرق وسطیٰ میں قیام امن بعید از قیاس ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسی طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیے بغیر، جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

افغانستان کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کا خواہاں ہے، افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔وزیر خارجہ نے کرونا وائرس کی عالمگیر وبا کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے صدر جنرل اسمبلی کے اقدام “ویکسین فار آل” کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس وبا سے مکمل چھٹکارے کیلئے ضروری ہے کہ سب کو محفوظ بنایا جائے