چینی اور روسی صدور میں تہنیتی خطوط کا تبادلہ

چینی اور روسی صدور میں تہنیتی خطوط کا تبادلہ

بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک):چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے چین روس سائنس اور ٹیکنالوجی اختراعی سال کی اختتامی تقریب کے لیے مبارکبادکے خطوط بھیجے ہیں۔ چینی ریڈیو کے مطابق شی جن پنگ نے کہا ہےکہ 1سال سےزیادہ عرصے سے چین اور روس نے 1ہزار سے زائد سائنسی اور تکنیکی اختراعی تعاون اور تبادلے کی سرگرمیوں کا انعقاد کیا ہے اور دونوں ممالک کو کوروناوائرس وبا کی روک تھام ، ایرو سپیس، جوہری توانائی اور ڈیجیٹل معیشت سمیت مختلف شعبوں میں بڑی پیش رفت حاصل ہوئی ہے ۔

وقت نے ثابت کیا ہے کہ چین اور روس کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کی اختراع میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور روس کو نسلوں تک دوستی کے تصور کو برقرار رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مزید فروغ دینا اور تعلقات کو اعلیٰ سطح اور اعلیٰ معیار تک فروغ دینا چاہیے۔

ولادیمیر پیوٹن نے اپنے مبارکبادکے خط میں کہا کہ دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے روس چین سائنس اور ٹیکنالوجی اختراعی سال کے کامیاب انعقاد سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ نئے دور میں جامع سٹریٹجک تعاون کے شراکت دار تعلقات کے فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کا سائنسی تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔