ہر ملک کو مساوات اور برابری کے اصولوں کے ساتھ مختلف ذمہ داریوں کے تناظر میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، وزیراعظم عمران خان

ہر ملک کو مساوات اور برابری کے اصولوں کے ساتھ مختلف ذمہ داریوں کے تناظر میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد :وزیراعظم عمران خان نے عالمی ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کیلئے پاکستان کے بھرپور کردار ادا کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کو مساوات اور برابری کے اصولوں کے ساتھ مختلف ذمہ داریوں کے تناظر میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

دونوں رہنمائوں نے گلاسگو برطانیہ میں ہونے والی اقوام متحدہ ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس (کوپ 26) سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ یہ کانفرنس 31 اکتوبر سے 12 نومبر کے دوران منعقد کی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کوپ 26 کے صدر کی حیثیت سے برطانیہ کے قائدانہ کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس سے سیاسی عزم کو قابل عمل، عملی اور موثر ماحولیاتی اقدامات میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو مساوات اور برابری کے اصولوں کے ساتھ مختلف ذمہ داریوں کے تناظر میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں سمیت عالمی ماحولیاتی چیلنج سے نمٹنے کیلئے اپنے کردار ادا کرنے کے بھرپور عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم نے پرنس آف ویلز کو پیرس معاہدے کے تحت نظرثانی شدہ قومی وضع کردہ شراکت داری سے متعلق پاکستان کے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا جس کے تحت 2030ء تک گرین ہائوس گیسز کے اخراج میں مجموعی طور پر 50 فیصد کمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے 10 ارب ٹری سونامی اقدام، ری چارج پاکستان اقدام، الیکٹرک وہیکلز، متبادل و قابل تجدید توانائی پالیسیوں سمیت پاکستان کے ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق ایجنڈا کے نمایاں اقدامات سے آگاہ کیا۔

علاقائی تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے مستحکم اور پرامن افغانستان میں پاکستان کی دلچسپی کو دہرایا۔ انہوں نے عام آدمیوں کی مشکلات بالخصوص موسم سرما کی آمد اور معاشی تباہی سے بچنے کیلئے افغانستان میں فوری انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ پرنس آف ویلز نے برطانوی حکومت کی جانب سے افغانستان سے ان کے شہریوں اور دیگر کے انخلاء میں پاکستان کے تعاون اور سہولت پر شکریہ ادا کیا۔