کوئی ’’سچا ‘‘ مسلمان جمہوریت کا حامی نہیں!

کوئی ’’سچا ‘‘ مسلمان جمہوریت کا حامی نہیں!

قارئین کرام نوٹ فرمالیں کہ آج کے بعد سے میں جمہوریت کا نہیں ڈکٹیٹر شپ کا حامی ہوں بلکہ مجھے گزشتہ تاریخوں سے ڈکٹیٹر شپ کا حامی تصور کیا جائے اور یوں میں نے آج تک جمہوریت کے حق میں اور آمریت کی مخالفت میں جو کچھ لکھا ہے اسے ہذیان سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے ۔گزشتہ تاریخوں سے آمریت کا حامی تصور کرنے کی درخواست میں نے اس لئے بھی کی ہے کہ اگر موجود جمہوری حکومت کے بعد کوئی غیر جمہوری حکومت برسراقتدار آئے تو مجھے بقایاجات گزشتہ تاریخوں سے ادا کئے جائیں، ویسے اس ماہِیَّتِ قَلب کی کوئی خاص وجہ نہیں سوائے اس کے کہ جمہوریت کا حامی ہوں اور چونکہ جمہوریت میں جمہور کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے۔ لہٰذا میرا ووٹ آمریت کے حق میں ہے کیونکہ اب جمہور کے متعلق میری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ وہ جمہوریت کے حامی نہیں ہیں بلکہ ان کا آئیڈیل نظام آمریت ہے، یہاں ایک امر کی وضاحت ضروری ہے اور وہ یہ کہ جمہور سے میری مراد صرف عوام نہیں بلکہ خواص بھی ہیں اور ان خواص میں جمہوریت کی جنگ لڑنے والے سیاست دان، دانشور ، صحافی، علماء بھی شامل ہیں بلکہ آمریت کے حق میں ’’اجماعِ امت‘‘ کا یہ عالم ہے کہ اس معاملے میں لیفٹ اور رائٹ دونوں ہم زبان ہیں ۔

ممکن ہے بعض قارئین سمجھ رہے ہوں کہ میں شاید ان سے کوئی پہیلی بھجوا رہا ہوں حالانکہ اس میں پہیلی والی کوئی بات نہیں، اگر ہم اپنے عوام اور خواص کے ہیروز پر ایک نظر ڈالیں تو بات فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے کیونکہ پاکستانی مسلمانوں کے سارے ہیروز اپنے اپنے علاقے کے زبردست آمر رہے ہیں۔ ان میں بعض حوالوں سے کچھ بہت قابل احترام بھی ہیں لیکن بہرحال ان کا شمار آمروں میں ہوتا ہے، ہمارے پسندیدہ آمروں کی اس فہرست میں کمال اتاترک ،جمال الناصر، سوئیکارنو، ضیاء الحق ، ایوب خان، صدام حسین، قذافی ،بومدین اور بہت سی دوسری شخصیات شامل ہیں، اندرون ملک جمہوریت کے حق میں نکلنے والے بڑے بڑے جلوسوں کے شرکاء اور ان جلوسوں کی قیادت کرنے والے رہنمائوں کے بیرون ملک ہیرو یا تو عیاش بادشاہ ہیں اور یا پھر جابر ڈکٹیٹر ہیں۔ اب اپنے حبیب جالب سے زیادہ جمہوریت کا حامی تو کوئی نہیں تھا لیکن چین ، روس، افغانستان،کیوبا اور جہاں جہاں ’’پرولتاری آمریت ‘‘قائم تھی یا ہے حبیب جالب ان آمروں کے مداح خواں رہے، بابائے جمہوریت نواب زادہ نصراللہ خان کے بھی کچھ اپنے پسندیدہ آمر تھے، یہی حال ولی خان، قاضی حسین احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا فضل الرحمان، علامہ ساجد نقوی اور دوسرے سیاسی اور مذہبی رہنمائوں کا رہا ہے۔ دانشوروں کے بھی اپنے اپنے پسندیدہ آمر ہیں جن کی ایک ایک ادا پر و ہ قربان ہوئے جاتے ہیں اور عوام تو خیر محبت ہی اس رہنما سے کرتے ہیں جس نے ملک میں دہشت پھیلائی ہو کہ ان کے خیال میں حکمران بھی اس باپ کی طرح ہونا چاہئے جو نوالہ سونے کا دیتا ہے اور دیکھتا شیر کی آنکھ سے ہے، پاکستان میں آمریت کے بانی ایوب خان کی تصویر آج بھی ہر ٹرک پر دیکھی جاسکتی ہے ۔

عوام اور خواص کے آمریت پسند ہونے کا ایک بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ جن مقبول عام سیاسی جماعتوں کے پیروکار ہیں، وہ سیاسی جماعتیں اپنے عہدیداروں کا انتخاب کبھی نہیں کراتیں بلکہ اس ضمن میں ہمیشہ نامزدگی سے کام چلایا جاتا ہے، اس سے ان جماعتوں کے رہنمائوں کی آمریت پسندی بھی واضح ہوجاتی ہے اور عوام و خواص کی ان سے محبت کی وجہ بھی سمجھ میں آ جاتی ہے۔ آمریت سے عوام کی والہانہ محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے نظریے کے خلاف نکلنے والے جلوس پر حملہ کر دیتے ہیں اور اختلاف رائے پر جلسہ الٹا دیتے ہیں، خواص کا یہ عالم ہے کہ اگر انہیں کسی اخبار کا اداریہ، کالم یا خبر پسند نہ آئے یا کسی چینل کی پالیسی سے اختلاف ہو وہ اس کے دفتر کو آگ لگوا دیتے ہیں اور واپسی پر ایسے’’ جمہوریت دشمن ‘‘اخبار اور چینل کے ذمہ داران کو خبر دارکر آتے ہیں کہ اگر آئندہ اس جسارت کا مظاہرہ کیا گیا تو آئندہ بھی یہی کچھ کیا جائے گا۔ مجھےتو سمجھ نہیں آتی کہ ہم میں سے کون مائی کا لال ہے جو سمجھتا ہے کہ وہ جمہوریت کا حامی ہے، ویسے اب آپس کی بات یہ ہے کہ اپنے عوام اور خواص کو خواہ مخواہ میہنےمارے جا رہا ہوں کیونکہ ہماری آمرت پسندی کوئی ایسا رجحان نہیں ہے جس نے ہماری قوم میں گزشتہ برسوں میں جنم لیا ہو بلکہ ہم مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ خلفائے راشدین کے بعد سے اب تک جنگجو بادشاہ، سپہ سالار اور آمر ہمارے ہیرو رہے ہیں، ان گزشتہ چودہ سو برس میں اگر کسی ایک مسلمان ملک میں بھی مروجہ معنوںمیں جمہوری حکومت آئی ہوتو مجھے ان کا نام بتائیں میں اپنا دعویٰ واپس لیتا ہوں کیونکہ ایک دو نام تو خود میرے ذہن میں بھی آ گئے ہیں مگر اس سے میرا مؤقف غلط ثابت نہیں ہوتا کیونکہ مستثنیات ہر جگہ ہوتی ہیں۔ ویسے تو مروجہ اصل تے وڈی جمہوریت کی تاریخ بھی دوڈھائی سو برس سے زیادہ پرانی نہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان دو ڈھائی سو برس میں بھی جمہوریت دنیا کے متعدد مماک میں اپنی جڑیں بہت مضبوط کر چکی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ مسلم ممالک کی سرزمین اسے راس نہیں آئی ؟جمہوریت کے بڑے سے بڑے چیمپئن کا عمل خواہ وہ سیاست دان ہو یا دانشور ، لیفٹ کا ہو یا رائٹ کا، مکمل طور پر آمرانہ ہے اور اس کا اندرون ملک یا بیرون ملک جو ہیرو ہے وہ اپنے علاقے کا نہایت جابر قسم کا آمر ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ فرد کی طرح ہر قوم کی بھی ایک سائیکی ہوتی ہے اور مروجہ جمہوریت مسلمان قوم کی سائیکی میں شامل ہی نہیں ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم لوگ اپنے نظریاتی گروپ سے وابستہ لوگوں کے سات خون بھی معاف کر دیتے ہیں چنانچہ دنیا میں اگر کوئی اسلامی آمر ہے تو اسلام پسند اس کے حامی ہیں اور اگر کوئی سوشلسٹ آمر ہے تو سوشلسٹ اس کے فدائی ہیں، وجہ جو کچھ بھی ہو ثابت یہی ہوتا ہے کہ ہمارے عوام وخواص دانشور اور سیاست دان سب آمریت کی زلف کے اسیر ہیں اور چونکہ جمہور آمریت کے حامی ہیں اور میں جمہوریت پسند ہوں لہٰذا مجھے گزشتہ تاریخوں سے آمریت کا حامی تصور کیا جائے۔