سی پیک کے تحت گوادر میں قائم کی جانے والی صنعتوں سے ملکی برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوگا،سی پیک اتھارٹی

سی پیک کے تحت گوادر میں قائم کی جانے والی صنعتوں سے ملکی برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوگا،سی پیک اتھارٹی

اسلام آباد :سی پیک کے تحت گوادر میں قائم کی جانے والی صنعتوں سے ملکی برآمدات کے حجم میں اضافہ ہوگا،گوادر پورٹ پر 4 برتھ مکمل طور پر تیار ہے اور 2020میں پورٹ آپریشنل ہو چکا ہے ۔

یہ پورٹ چائنہ پورٹ ہولڈنگ کمپنی نے 300 ملین ڈالر کی مالیت سے مکمل کیا ہے۔سی پیک اتھارٹی حکام نے اے پی پی کو بتایا کہ گوادر پورٹ فری زون فیز 1جو کہ 60 ایکڑ پر محیط ہے وہ تیار ہو چکا ہے۔فری زون میں مجموعی طور پر سرمایہ کاروں کی تعداد46 ہوگئی ہے۔

گوادر فری زون فیز ٹو 22 سو ایکڑ پر مشتمل ہےاس کا افتتاح وزیر اعظم ستمبر میں کریں گے۔پہلے فیز میں مکمل ہونے والےفری زون میں 12فیکٹریاں ہیں جن میں سے3 مکمل ہو چکی ہیں اور باقی پہ کام شروع ہو گیا ہے۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے ، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ ، چائنا پاکستان فرینڈشپ ہسپتال ، گوادر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور گوادر فری زون کی ترقی اور آپریشن کو چائنہ اوورسیز پورٹس ہولڈنگ کمپنی چلا رہی ہے ۔گوادر پورٹ کو چاَئنہ اورسیز پورٹس ہولڈنگ نے 300 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا ہے۔ حکام کے مطابق فری زون کو منصوبے کے تحت چار فیز میں 2015سے 2030تک ڈویلپ کیا جائے گا۔ اور ملکی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

سی پیک کے تحت گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تکمیل ًتقریبا آ خری مراحل میں ہے ۔ ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر گوادر بندرگاہ کے لئے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی جس کے ذریعے پورٹ کے لئے پوری ٹریفک میں روانی پیدا ہو جائےگا۔انہوں نے بتایا کہ نیزایسٹ بے ایکسپریس وے گوادر بندرگاہ اور اس کے فری زون کو قومی شاہراہوں کے جال سے منسلک کرے گا۔اب بندرگاہ پر ٹریفک بڑھانے پر توجہ ہے، ڈھائی تین سال میں گوادر میں 12 ہزار نوکریاں فراہم کی گئیں،گوادرپورٹ سے سامان کی ترسیل کے لیے آن لائن بکنگ کی جاسکتی ہے۔ گوادر ائیر پورٹ پرکام کافی تیزی سے ہو رہاہے۔ گوادر سٹی کا ماسٹر پلان منظور ہوچکا ہے اور عمل درآمد کے مرحلے پر ہے.