قطب شمالی کی پگھلتی ہوئی برف

یہ مسئلہ کرہ ارض پر زندگی کی بقا کے حوالے سے اتنا زیادہ اہم ہے کہ متعدد ممالک میں اس بارے میں تحقیق، تجزیوں اور تجربات کے سلسلے جاری ہیں۔جو ملک سائنس اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں جتنا زیادہ آگے ہے وہ اسی قدر ان تحقیق، تجزیوں اور تجربات میں پیش پیش ہے

قطب شمالی کی پگھلتی ہوئی برف

انٹارکٹیکا کی تیزی سے پگھلتی ہوئی برف نے دنیا بھر کے سائنس دانوں اور ماہرینِ ماحولیات کی نیندیں اڑا د ی ہیں۔یہ مسئلہ کرہ ارض پر زندگی کی بقا کے حوالے سے اتنا زیادہ اہم ہے کہ متعدد ممالک میں اس بارے میں تحقیق، تجزیوں اور تجربات کے سلسلے جاری ہیں۔جو ملک سائنس اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں جتنا زیادہ آگے ہے وہ اسی قدر ان تحقیق، تجزیوں اور تجربات میں پیش پیش ہے۔ ریاست ہائے متحدہ ،امریکا،چوں کہ ان شعبوں میں بہت آگے ہے اور عالمی طاقت ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کے مفادات بہت زیادہ ہیں اس لیے وہ دنیا کے کسی بھی خِطّے میں ہونے والی ہر قسم کی پیش رفت اور تبدیلیوں پر گہری نگاہ رکھتا ہے۔ چوںکہ انٹارکٹک کے ماحولیاتی نظام میں آنے والی تبدیلیوںسے پوری دنیا کے متاثر ہونے کا امکان ہے ،اس لیے امریکی ماہرین نے ان پر گہری نگاہ رکھی ہوئی ہے۔

اسی لیےامریکی حکام کہتے ہیں کہ ان کے ملک نے اعلیٰ سا ئنسی تحقیق کے لیے مالی وسائل کی فراہمی اور اس تحقیق کےنتائج میں عالمی برادری کی شمولیت کے ذریعے آب و ہوا میں تبدیلی کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کا جو عزم کیا ہے، انٹارکٹک کی برف پرکی جانے والی تحقیق اُس کی صرف ایک مثال ہے۔ان ہی کوششوں کےطو رپرامریکا میں سمندر اور فضائی معاملات سے متعلق قومی ادارے،نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کی بحرالکاہل لیباریٹری کے تحت تیار کی جانے والی امریکی سائنس دانوں کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ – اگر دنیا کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کا اخراج کم کرنے کے لئے کام کرے تو اس صدی کے آخری عشروں میں قطب شمالی میں برف پگھلنے کے رحجان میں کمی آسکتی ہے۔

امریکی ارضی طبیعیات کی یونین کے’’زمین کا مستقبل‘‘( Earth's Future) نامی رسالے میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق 1980 کی د ہائی کے بعد بحر قطب شمالی کے سمندر کی برف اوربرفانی تودے، 75 فی صد تک پگھل چکے ہیں۔ دنیا کی چوٹی پر کم ہوتی ہوئی سمندری برف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، عالمی حِدّت، اور سطح سمندر میں اضافے کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق گزشتہ عشرے میں مغربی انٹارکٹک میں برف پگھلنے کی شرح تین گنا ہوگئی ہے۔دوسری جانب توانائی سے متعلق اداروں، جہاز رانی کی صنعت، دنیا بھر کی بحری کمانڈز،حتی کہ سیاحتی کمپنیز نے، اس بات کا از سرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے کہ قطب شمالی میں درجہ حرارت میں اضافہ، خطے میں کس طرح مزید سمندری راستے کھولے گا، جس سے جہاز رانی کی مزید سہولتیںپیدا ہوں گی۔ نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹماسفیرک ایڈمنسٹریشن کی بحر الکاہل کی سمندری ماحولیاتی لیباریٹری کے جیمز اوورلینڈ نے بہ حیثیت مرکزی مصنف اور سمندری اورقطب شمالی کے امریکی تحقیقی مراکز کے شریک مصنفین نے مل کر ایک مضمون لکھا تھا، جس کے مطابق اس امر کا بہت زیادہ امکان ہے کہ قطب شمالی 2050 سے یا ایک یا دو دہائیوںمیں موسمیاتی طور پر سمندری برف سے تقریبا ًخالی ہو جائے۔

ماہرین کے مطابق مختلف النوع وجوہات کی بناء پر قطب شمالی میں حِدّت میں اضافے کا رحجان وسطی عرض البلد کے مقابلے میں زیادہ تیزہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ حِدّت کی وہ شرح ہے جو زمینی سطح، کرہ ہوائی میں منعکس کرتی ہے ۔ جیسے جیسے زیادہ سفید اور چمک دار برف پگھلتی جاتی ہے، نیچے سے سمندر کی زیادہ سے زیادہ تاریک سطح نمودارہوتی جاتی ہے جس سے فضائی حِدّت کو واپس خلامیں بھیجنےکے بجائے سمندراسے زیادہ سے زیادہ حد تک جذب کرلیتا ہے۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے جیسے قطب شمالی کی سمندری برف پگھلنے کی رفتاربڑھتی جائے گی یہ رحجان حِدّت میں اضافے اور زیادہ برف پگھلنے کی رفتار کو تیز کر تا جائےگا۔لیکن یہ نئی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ ’’اگر انسانی تہذیب موسمیاتی تبدیلی کا باعث بننے والی گیسزکے لئےتخفیفی منظرنامے‘‘ پر عمل کرتی ہے تواس صدی کے آخر تک قطب شمالی کےلیےدرجۂ حرارت کی اوسط پیش گوئیاں، عالمی سطح پر جاری زہریلی گیسز کے اخراج میں اضافے کے مسلسل نمونوں کی بناء پر حساب لگائے گئے درجہ حرارت میں اضافوں کی پیش گوئیوں سے 2 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہو سکتی ہیں۔

ڈیٹا کے جائزے کی بناء پر’’زمین کا مستقبل ‘‘ (Earth's Future ) کے مصنفین نے اندازہ لگایا ہے کہ قطب شمالی میں بڑی تبدیلیاں اگلی دہائیوں کے موسمی نظام سے جڑی ہوئی ہیں اوران تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے انسانوں کو ترجیحی بنیادوں پر ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے پر غور کرنا چاہیے۔یہ مصنفین قطب شمالی میں حِدّت کےرحجانات کےقلیل المدتی امکان کی زیادہ یقین کے ساتھ پیش گوئی کرتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ صدی کے آخر تک کیا ہو سکتا ہے، اس بارے میں اتنے وثوق سے پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق موسم کے نمونوں کی پیش گوئی کے بے حد پے چیدہ عمل کا انحصار ’’دنیا کے موسمیاتی نظام کی ابتری کی نوعیت‘‘اور دیگر متغیرات پرہے جن کےبارے میں اگر مختلف طریقوںسے اندازے لگائےجائیںتوان سے نما یاں حد تک مختلف نتائج حاصل ہو تے ہیں۔یاد رہے کہ موجودہ اخراج کی شرحوںکےبرقرار رہنے اوراس کے مقابلے میں اخراج میں کمی کے اقد ا ما ت،ان متغیرات میں سے ہیں جن کا جائزہ سائنسی ٹیم لے رہی ہے۔

Earth's Future کے نتائج کے مطابق، ان دو راستوں میں واضح فرق ہے، جس سے اکیسویں صدی کے اختتام پر قطب شمالی کے فضائی درجہ حرارت میں کافی فرق سامنے آتا ہے جو زہریلی گیسز کے اخراج کے لیے تخفیفی سرگرمیاں شروع کرنے کے حق میں ایک مضبوط دلیل ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے بہ قول گیسز کےمعمول کے اخراج کی پالیسی کو مدنظر رکھ کر کی گئیں موسمیاتی پیش گوئیوں کی بنیاد پر صدی کے آخر تک پورے قطب شمالی میں درجہ ٔحرارت میں موسم خزاں کے مہینوں میں 13 ڈگری سینٹی گریڈ اور موسم بہار کے اواخر میں 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ اگر ان نمونوں کو مد نظررکھاجائے،جن میں ایسے مستقبل کے بارے میں اندا زہ لگایا گیا ہے، جس میں گیسوں کے اخراج میں کمی کی پا لیسیاں نافذ کر دی گئی ہوں، تو ایسی صورت میں موسمیاتی اضافوں میں بالترتیب 7 اور3 ڈگری کی نمایاں کمی سا منے آتی ہے۔ماہرین کے مطابق قطب شمالی میں سمندری برف پگھلنے کے مناظردیکھ کریہ واضح ہوجاتا ہے کہ کس طرح تاریکی والے حصےمیں موجودپانی زیادہ حِدّت جذ ب کرتے ہیں اور حِدّت میں اضافے کے عمل کی وجہ بنتے ہیں۔