نشتر پارک کو کھیلوں کی تمام تر سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے :مخدوم ہاشم جواں بخت

کھیلوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے سکولوں اور کالجوں کو مفت ممبر شپ دی جائے۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کی مناسب برینڈنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے:وزیر خزانہ پنجاب

 نشتر پارک کو کھیلوں کی تمام تر سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے :مخدوم ہاشم جواں بخت

لاہور: نشتر پارک کو کھیلوں کی تمام تر سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے جہاں سپورٹس اکیڈمی سے لے کر قومی و بین الاقوامی لیگز اور ٹورنامنٹس میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کے قیام کے لیے ہوٹل کی سہولت بھی دستیاب ہو۔ محکمہ ملکیتی اراضی کے اورمختلف کھیلوں کی سہولیات سے بھر پور استفادے کے لیے بورڈ میں پرائیویٹ سیکٹر سے ٹیکنیکل ممبرز کی شمولیت کو یقینی بنائے۔سپورٹس کمپلیکس میں عوامی رسائی کو آسان تر بنایا جائے۔

کھیلوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے سکولوں اور کالجوں کو مفت ممبر شپ دی جائے۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کی مناسب برینڈنگ پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔ محکمہ اپنا بزنس پلان تیار کرے۔ انسانی وسائل کی کمی کو سرپلس پول سے پورا کیا جائے۔ امور نوجوانان کے تحت نوجوان نسل کو بین الاقوامی سطح کے مسائل سے آگاہی اور کورونا جیسے مسائل سے آگاہی کا ذریعہ بنایا جائے۔ صوبے بھر میں نوجوانوں سے متعلقہ سرگرمیوں اور حکومتی اقدامات کی یکجائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔  

ان خیالات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے خصوصی مانیٹرنگ یونٹ کے تحت سرکاری محکموں کی کارکردگی پر نظر ثانی کے لیے تشکیل کردہ کمیٹی کے اجلاس میں محکمہ کھیل و امور نوجوانان کے منتظمین سے خطاب کے دوران کیا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت پنجاب وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی روشنی میں پورے صوبے میں بین الاقوامی سطح کے کھیلوں کے فروغ کے لیے انفراسٹریکچر کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

پنجاب کے تمام اضلاع میں تحصیل کی سطح پر سپورٹس کمپلیکسز کا قیام اور 127.152ملین روپے کی لاگت سے یونین کونسل کی سطح پر 100 سافٹ سپورٹس سہولیات کی دستیابی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سکوائش اور باکسنگ کے لیے بین الاقوامی معیار کے کمپلیکسز صوبائی سطح سکوائش اور باکسنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔اجلاس کے دیگر شرکاء میں صوبائی وزیر برائے کھیل و امور نوجوانان رائے تیمور خان بھٹی، سیکرٹری سپورٹس، ڈی جی پنجاب سپورٹس، ممبر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب شامل تھے۔

سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان نے اجلاس کو محکمہ کے تحت جاری منصوبہ جات میں پیش رفت کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ تحصیل کی سطح پر 21سپورٹس کمپلیکسز پر کام جاری ہے۔ سال کے اختتام تک میانوالی اور تونسہ سمیت 21تحصیلوں میں کمپلیکسز کا افتتاح کر دیا جائے گا۔ اس وقت محکمہ کے تحت کھیلوں کی 315سہولتیں دستیاب ہیں جبکہ 166منصوبوں پر کام جاری ہے۔پنجاب کی پہلی سپورٹس پالیسی ترتیب دی جا چکی ہے۔ پالیسی کے تحت کھیلوں کے پہلے سے موجود انفرا سٹریکچر کی مرمت اور دیکھ بھال کے لیے ذاتی وسائل میں اضافے کو یقینی بنایا جائے گا۔

کھلاڑیوں کی موزوں تربیت کے لیے ایکشن پلان پر عمل درآمد بھی پالیسی کا حصہ بنائی گئی ہے۔ پالیسی کے تحت کھلاڑیوں کے بہتر مستقبل کے لیے انڈومنٹ فنڈ کا قیام، انشورنس سکیم اور ایوارڈز کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔ صوبائی وزیر نے محکمہ کھیل و امور نوجوانان میں مانیٹرنگ اینڈ ریسرچ سیکشن کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے منتظمین کو جاری منصوبہ جات کی تیز رفتار تکمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے۔

اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے زیر استعمال سپورٹس بورڈ پنجاب کی اراضی کے معاملات بھی زیر بحث لائے گئے۔ وزیر برائے کھیل و امور نوجوانان نے صوبے میں کھیلوں کے انفراسٹریکچر کی فراہمی، ٹیلنٹ ہنٹنگ اور کھلاڑیوں کی تربیت کو سپورٹس بورڈ پنجاب کا بنیادی فریضہ قرار دیتے ہوئے کبڈی ٹورنامنٹ کے ذریعے مقامی کھیلوں کے فروغ ککی کوشش کو سراہا۔ صوبائی وزیر نے مستقبل میں مختلف گیمز کے بین الاقوامی و بین الصوبائی ٹورنامنٹس کے ذریعے فروغ کے عزم کا بھی اظہار کیا۔