ٹی ایچ کیو ہسپتال بہاولپور کے سینئر ڈینٹل سرجن عمیر افضل اور ڈسپنسر مقصود چیمہ کو جنسی ہراسانی کی شکایت پر سزا

ٹی ایچ کیو ہسپتال بہاولپور کے سینئر ڈینٹل سرجن عمیر افضل اور ڈسپنسر مقصود چیمہ کو جنسی ہراسانی کی شکایت پر سزا

لاہور:خاتون محتسب پنجاب مسز رخسانہ گیلانی نے سینئر ڈاکٹر اور ڈسپنسر کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے الزامات ثابت ہونے پر ہراسانگی کے قانون 2010 کے تحت سزا کا حکم سنا دیا۔ شکایت کنندہ کے مطابق مجرمانہ فعل میں ملوث ڈاکٹر عمیر افضل نے اسے اپنے کمرے میں بلایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر بغل گیر ہونے کی کوشش کی۔ خاتون وہاں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی جبکہ ڈاکٹر نے اسے دھمکاتے ہوئے کہا کہ اگر اس واقعے کے بارے میں اس نے کسی سے ذکر کیا تو اسے ملازمت سے برطرف کروادیا جائے گا۔

ڈسپنسر مقصود چیمہ کے خلاف مدعیہ کا کہنا تھا کہ وہ اسے ایک عرصے سے ہراساں کرتا آرہا تھا جس کی وجہ سے اسے طلاق ہو گئی۔ مذکورہ ڈسپنسر اکثر اوقات مدعیہ کی تصویر بناتا اور اس کے روزمرہ کے معمولات کے متعلق اس کے سابقہ شوہر کو آگاہ کیا کرتا تھا۔ خاتون محتسب کو دی گئی شکایت میں خاتون نے یہ بھی کہا کہ اس گروہ نے اس کو اس قدر ہراساں کیا تھا کے اس صدمے کو مدعیہ کے والدین برداشت نہ کرسکے اور دنیا فانی سے رخصت ہوگئے۔

تحریری شکایات موصول ہونے پر خاتون محتسب نے فوری طور پر ڈاکٹر عمیر افضل اور ڈسپنسر مقصود چیمہ سے جواب طلب کیا اور کاروائی کی بابت حاضری کے لئے پابند کیا۔ خاتون محتسب نے فریقین کا تفصیلی موقف سننے، بر حلف بیانات ریکارڈ کرنے اور جراح کا موقع دینے کے بعد الزامات ثابت ہونے پر ڈاکٹر کو ٹائم سکیل کی ابتدائی سطح پر تنزلی اور ڈسپنسر کی پانچ سال کے لیے سالانہ ترقی روکنے کی سزا کا حکم سنایا۔

خاتون محتسب نے محکمہ صحت کے حکام کو پابند کیا کہ ان مذکورہ ڈاکٹر اور ڈسپنسر کو فی الفور خاتون کے کام کرنے کی جگہ سے ہٹایا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کے دونوں ڈاکٹر اور ڈسپنسر کا مدعیہ کے کام کرنے کی جگہ پر تبادلہ نہ کیا جائے۔ خاتون محتسب نے اپنے فیصلے میں ہراسانگی کے ایکٹ 2010 پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ہراسانگی کا شکار خاتون پر کوئی ایسی پابندی عائد نہیں کرتا کہ اسے فوری شکایت کرنی چاہیے۔

ہمارے معاشرے میں خاتون کے لیے آسان نہیں کہ وہ ہراسانگی کے بارے میں فوریشکایت کریں کیوں کہ اکثر اوقات شکایت کرنے پر الٹا خاتون کو قصور وار سمجھا جاتا ہے جس کے نتیجے میں خاتون کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے یا پھر اس کی ملازمت میں اتنے مسائل پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ وہ ذہنی کوفت کا شکار ہوکر خود ہی ملازمت چھوڑدے۔  البتہ ہراسانگی کا شکار ہونے والی خاتون کو چاہیے کہ وہ اس کے بارے میں فوری طور پر اپنی کسی بھروسہ مند ساتھی اہلکار سے ذکر کریں تاکہ دوران انکوائری وہ اس کا ساتھ دے سکے۔