صوبائی محکمہ انسانی حقوق اور پی جے این کے باہمی اشتراک سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد

مشاورتی اجلاس کا مقصد انسانی حقوق پالیسی اور اس کے لئے سفارشات کا مسودہ تیار کرنا تھا صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم آگسٹین کی مشاورتی اجلاس میں خصوصی شرکت

 صوبائی محکمہ انسانی حقوق اور پی جے این کے باہمی اشتراک سے مشاورتی اجلاس کا انعقاد

لاہور: صوبائی محکمہ انسانی حقوق واقلیتی امور او ر پیس اینڈ جسٹس نیٹ ورک کے باہمی اشتراک سے لاہور کے ایک نجی ہوٹل میں مشاورتی سیشن کاانعقاد کیا گیا،جس میں صوبائی وزیر انسانی حقو ق اعجاز عالم آگسٹین نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ سیکرٹری انسانی حقو ق ندیم الرحمان،ڈائریکٹر پیس اینڈ جسٹس نیٹ ورک سید رضا علی، پنجاب پروگرام کی نمائندہ حفصہ مظہر، نمائندگان خواجہ سراء کمیونٹی اور سول سوسائٹی نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ڈائریکٹرا نسانی حقوق محمد یوسف نے سیشن کے آغاز میں شرکاء کو بتایا کہ سیشن کا مقصد نئی انسانی حقوق پالیسی کے لئے سفارشات کا مسودہ تیار کرنا ہے اور اس کیلئے تمام اسٹیک ہولذرز بشمول نمائندگان سول سوسائٹی کا مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔

انہوں نے شرکاء کوپنجاب 2018 کی انسانی حقوق پالیسی کی پیشرفت کے بارے میں آگاہ کیا اور آئندہ تین سال کی پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت پیش کی۔ڈائریکٹر پیس اینڈ جسٹس نیٹ ورک سید رضا علی اور پنجاب پروگرام کی انچارج حفصہ مظہر نے مشترکہ طور پر کہا کہ کوویڈ 19 وبائی امراض نے پنجاب میں انسانی حقوق کی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے جسکی وجہ سے ریاست پر کافی اثر ہوا ہے تاہم مستقبل میں ہر قسم کے مسائل کو سوچ کر پالیسی کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے پیٹر جیکب نے سفارشات پیش کیں،خواجہ سراء برادری کی جانب سے مون علی نے سفارشات پیش کیں جبکہ اسپیشل افراد کی نمائندگی کرتے ہوئے تنویر جہاں نے مختلف سفارشات پیش کیں۔

سیکرٹری انسانی حقوق ندیم الرحمن نے محکمہ کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ حکومت پنجاب نے صوبہ بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے بے شمار اقدامات کیئے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں پنجاب وہ واحد صوبہ ہے،جس نے انسانی حقوق کی پالیسی نافذ کی جبکہ صوبہ بھرمیں انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ٹاسک فورس کی تشکیل بھی دی گئی اور اب پھر پنجا ب ایک مرتبہ پھر سے انسانی حقو ق کی پالیسی تشکیل دینے جا رہا ہے تاہم تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت سے ہی آگے بڑھا جائیگا۔

سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر انسانی حقو ق اعجاز عالم آگسٹین نے کہا کہ حکومت پنجاب کی اولین ترجیحات میں امن، ہم آہنگی اور ایک دوسرے کو قبول کرنا جیسے ماحول کو قائم کرنا شامل ہے تاکہ لوگ اپنے آ پ کو محفوظ سمجھ سکیں اور اجتماعی نشوونما کیلئے پوری لگن سے حصہ ڈال سکیں۔ ایک ایسا پاکستان بنانا چاہتے ہیں جدھر ہر شہری کو تمام بنیادی حقوق کی فراہمی کسی بھی مسلک، ذات پات اور مذہب سے ہٹ کر فراہم کی جا سکیں کیونکہ پاکستان میں بسنے والے تمام شہری صرف پاکستانی ہیں ان کو کسی بھی اور طرز پر پرکھا نہیں جا سکتا۔

انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے سفارشات پیش کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ تمام لوگ اپنی اپنی سفارشات تحریری طور پر محکمہ کو ارسال کریں اور کسی بھی ایشو پر توجہ ڈلوانے کے لئے ہر وقت محکمہ کے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ حکومت آپ کے ساتھ ملکر انسانی حقو ق کا تحفظ یقینی بناسکے۔صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ آج کے اجتماع کا مقصد انسانی حقوق کے فریم ورک کو مزید مضبوط کرنا اور ایک پرامن اور محفوظ معاشرے کے قیام کے لئے مشاور ت کرنا ہے۔سیشن کے اختتام پر نمائندگان سول سوسائٹی کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئیں جبکہ پیس اینڈ جسٹس نیٹ ورک کی جانب سے صوبائی وزیر کو شیلڈ پیش کی گئی۔