پیدا کیوں کیا؟

پیدا کیوں کیا؟

برطانیہ کی عدالتی تاریخ کے اس د لچسپ اور انوکھے ترین مقدمہ میں ایک 20سالہ لڑکی نے اپنی پیدائش سے متعلق ڈاکٹر (گائناکالوجسٹ) سے مقدمہ جیت لیا جس کے نتیجہ میں ہرجانہ کے طور پر اچھی خاصی رقم بھی ملے گی جو لاکھوں پائونڈز پر مشتمل ہو گی اور یاد رہے کہ پائونڈز ہمارے پیارے پیارے راج دلارے ’’پاک روپے‘‘ سے کہیں زیادہ تگڑی اور باعزت کرنسی ہے۔

پیدائشی طور پر ریڑھ کی ہڈی کے عارضہ کا شکار 20سالہ ایوی نے اپنی والدہ کے اس ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا جس نے حمل کے وقت اس کی والدہ کو ایک ایسی دوا استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا جو ممکنہ طور پر پیدائش کے وقت ایوی کو جسمانی معذوری سے بچا سکتی تھی۔

ایوی پیراشوٹ جمپنگ سٹار ہے اور گھڑ سواری کے مقابلوں میں بھی حصہ لیتی ہے۔ ایوی پرنس ہیری اور میگھن سے بھی ملاقات کر چکی ہے اور آج کل ’’لاٹری‘‘ کی رقم وصولنے کی تیاری میں ہے۔

برطانیہ عدالتوں کی ایک اپنی ہی دنیا ہے جس کے بارے میں ’’وکیل کیا کرنا ہے جج ہی کر لو‘‘ جیسا کوئی جملہ زبان زدعام نہیں اس لئے میں بھی ان کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے پر تبصرے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ کاش متعلقہ فاضل جج صاحب نے ہمارے ایک استاد شاعر کا یہ شعر پڑھا یا سنا ہوتا تو شاید ان کا فیصلہ بیچارے ڈاکٹر کے خلاف نہ ہوتا۔

لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

جس کے مقدر میں زندگی لکھی ہوتی ہے اس کی تشریف آوری کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور جس نے اس جہان رنگ و بو یا بے رنگ و بدبو سے بچنا ہوتا ہے اسے اس ’’جہنم‘‘ میں لا کوئی نہیں سکتا۔ عجیب ’’اشرف المخلوقات‘‘ ہے جسے نہ اپنی پیدائش پہ کوئی اختیار نہ موت پر۔ جینا مرنا تو بہت دور کی بات انسان کا بس تو اس پر بھی نہیں کہ اس نے کس ملک، معاشرہ یا مذہب میں جنم لینا ہے، اس کے والدین کو ن اور کیسے ہوں گے ؟ بہن بھائی اور دیگر عزیزواقارب کون ہوں گے ؟ انسان کو تو پیدائش کے بعد بھی عرصہ تک علم نہیں ہوتا کہ وہ ’’پیدا‘‘ ہو چکا ہے۔ میں نے ایک بار لکھا تھا کہ ایک ہی لمحہ میں ایک بچہ سکینڈے نیویا اور دوسرا کسی بھوکے ننگے غیر منظم، غیر مرتب مقام پر پیدا ہوتا ہے تو سکینڈے نیویا میںجنمابچہ زندگی کی 99 فیصد بازی جیت چکا ہوتا ہے جبکہ پسماندہ، محروم، مظلوم اور غیر منصفانہ معاشرہ میں جنم لینے و الا بچہ زندگی کی 99فیصد بازی مکمل طور پر ہار چکا ہوتا ہے۔ اس زہریلے سچ کو ساحر لدھیانوی نے بہت خوب صورتی سے بیان کیا تھا۔

’’دوبوندیں ساون کی

ایک گرے ہی سیپی میں اور موتی بن جائے

دوجی گندے جل میں گرکے اپنا آپ گنوائے

دوبوندیں ساون کی‘‘

اسی طرح ایک ہی پودے پر کھلی دو کلیاں گلشن کی جن میں سے ایک کا مقدر سہرا اور دوسری کا نصیب ارتھی ہوتا ہے تو کسی بیچارے ڈاکٹر کی کیا مجال کہ زندگی موت کے اس کھیل بلکہ جنجال میں کوئی فیصلہ کن کردار ادا کر سکے؟ سید عباس اطہر المعروف شاہ جی مرحوم سے مدتوں میرا ’’جھگڑا‘‘ چلتا رہا۔ ان کی ایک نظم کے دو مصرعے ہیں۔

’’اے ماں!

تو نے ہمیں کن زمانوں اور کن زمینوں پر پیدا کیا‘‘

میں انہیں اکثر کہتا کہ انسانوں اور ان کی مائوں باپوں کا کسی کی پیدائش میں کوئی زور نہیں ہوتا۔ ہونی ہو کر رہتی ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا۔

تب میں شاہ جی کو اپنا یہ ذاتی شعر سناتا

ہونی کیا اور انہونی کیا

جو ہونا ہو، ہو جاتا ہے

جو ملنا ہو مل کے رہے گا

جو کھونا ہو، کھو جاتا ہے

ساغر نے کہا تھا

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یادنہیں

اور معین احسن جذبی کہتے ہیں

یہی زندگی مصیبت، یہی زندگی مسرت

یہی زندگی حقیقت، یہی زندگی فسانہ

اور سودا سا سودائی تو قصہ ہی تمام کرگیا

فکر معاش، عشق بتاں، یاد رفتگاں

دو دن کی زندگی میں بھلا کوئی کیا کرے

اور شکیب جلالی یاد آیا

یہ کون بتائے عدم آباد ہے کیسا

ٹوٹی ہوئی قبروں سے صدا تک نہیں آتی

زندگی عدم سے وجود اور موت وجود سے عدم کی طرف واپسی کا مختصر سا وقفہ ہے جس میں پیدا کرنے والوں، پیدا ہونے والوں اور پیدائش میں معاونت کرنے والوں کا رول اتنا ہی ہوتا ہے جتنا فلموں میں ’’ایکسٹراز‘‘ کا ہوتا ہے تو اتنی بھی کیا سنجیدگی کہ بندہ یا بندی ڈاکٹر پر کیس کر دے اور عدالت بھی اس پر فیصلہ کرنا ضروری سمجھے لیکن یہ بات کسی نے ایوی کو نہیں سمجھائی۔

ایوی بیچاری کو تو ’’اردو‘‘ کی سمجھ نہیں ہو گی لیکن کم از کم انگریزی میں تو SORENکو پڑھ لینا چاہئے تھا جس نے لکھا۔

''LIFE CAN ONLY BE UNDER STOOD BACKWARD'

IT MUST BE LIVED FORWARD.''

PARKERنے تو چار مصرعوں میں کئی دریا کوزے میں بند کریئے۔

LIFE IS A RACE WELL RUN,

LIFE IS A WORK WELL DONE,

LIFE IS A VICTORY WON,

NOW COMETH REST,

اور اب آخر پہ اپنے قارئین کیلئے ایک بیحد قیمتی مشورہ

"LIFE IS FARGILE, HANDLE WITH PRAYER"