پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گروں کا حملہ ناکام , سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشت گروں کو ہلاک کردیا

فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار سمیت 4 سیکیورٹی گارڈ بھی جاں بحق جبکہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے، بی ڈی ایس کے عملے کو طلب کرلیا گیا ہے : ترجمان سندھ رینجرز پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گروں کا حملہ ناکام , سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشت گروں کو ہلاک کردیا

  پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دہشت گروں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا سیکیورٹی فورسز نے 4 دہشت گروں کو ہلاک کردیا ہے، فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار سمیت 4 سیکیورٹی گارڈ بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق حملےمیں ملو ث تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے ،جبکہ کلیئرنس آپریشن جاری ہے، بی ڈی ایس کے عملے کو طلب کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کی۔

ڈی آئی جی ساوتھ کا کہناہے کہ دہشت گرد جس گاڑی میں آئے تھے اسے بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے، پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دہشت گروں کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر جدید اسلحہ اور دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔ ایس ایس پی سٹی مقدس حیدر کا کہنا ہے کہ فائرنگ سے پولیس اہلکار اور 4 سیکیورٹی گارڈ جاں بحق ہوئے ہیں ، جبکہ سول اسپتال میں 7 زخمیوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ مقدس حیدر نے بتایا کہ فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوا ہے جسے اسپتال میں طبی امداد دی جارہی ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل کے مطابق حملہ آوروں کے پاس جدید ہتھیار موجود تھے،وہ پارکنگ کے ذریعے عمارت میں داخل ہوئے تھے۔

حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا بھی مکمل محاصرہ کرلیا جب کہ حملے کے بعد آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ دہشتگرد جدید اسلحہ سے لیس تھے اور ان کے پاس بارودی مواد سے بھری جیکٹیں بھی موجود تھیں۔ ایم ڈی پی ایس ایکس فرخ خان نے  کہا کہ حملے کے وقت ہماری اپنی سیکیورٹی نے بہت اچھا رد عمل دیا جب کہ پولیس اور رینجرز نے فوری کارروائی کرکے صورتحال کو قابو کرلیا۔ انہوں نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے لوگوں کی تعداد کم تھی ورنہ عام حالات میں 5 سے 6 ہزار افراد موجود ہوتے ہیں۔ فرخ خان کا کہنا تھا کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور حملے کی وجہ سے ٹریڈنگ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں رکی۔

ڈائریکٹر اسٹاک ایکسچینج عابد علی حبیب نے کہا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، ہمارے گارڈز نے دہشتگردوں سے مزاحمت کی۔ عابد علی حبیب نے بتایا کہ دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج کے گراؤنڈ اور ٹریڈنگ ہال میں بھی فائرنگ کی جس سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ آس پاس کی عمارتوں میں گھس گئے۔ عابد علی حبیب کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 میں سے 150 ممبران کے پرائمری دفاتر اسٹاک ایکسچینج میں موجود ہیں، ہم نے واقعے کے بعد خود کو دفاتر میں بند کرلیا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر قرار عباسی کا کہنا ہے کہ  اب تک سول اسپتال میں 7 زخمی لائےگئےہیں، اس کے علاوہ 7 لاشیں بھی سول اسپتال لائی گئی ہیں جنہیں پوسٹ مارٹم کیلیے مردہ خانے منتقل کیا ہے۔