پہلی بار غریب عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کا روڈ میپ دیا گیا ، مالی سال 18۔ 2017ء میں زراعت پر 1.6 ارب روپے خرچ ہوئے ، موجودہ حکومت نے بجٹ میں 63 ارب روپے رکھے ہیں ، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین

پہلی بار غریب عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کا روڈ میپ دیا گیا ، مالی سال 18۔ 2017ء میں زراعت پر 1.6 ارب روپے خرچ ہوئے ، موجودہ حکومت نے بجٹ میں 63 ارب روپے رکھے ہیں ، وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین

اسلام آباد :وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ 74 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں غریب عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کے لئے روڈ میپ دیا گیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کے لئے انکم ٹیکس ایکٹ کی شق 203میں اصلاحات لائی گئی ہیں جس کے ذریعے ٹیکس چوروں کو گرفتار کریں گے، جب تک ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 20 فیصد تک نہیں لائیں گے صورتحال بہتر نہیں ہوگی،

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زراعت کے شعبہ لئے وفاقی حکومت نے 62 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے، اس کے علاوہ کھادوں پر بھی سبسڈی دی جائے گی، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، تاجر صارفین سے جو سیلز ٹیکس وصول کرتے ہیں ہم ان سے وہ سیلز ٹیکس وصول کریں گے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں مالی بل 22۔ 2021 پر پہلی خواندگی کے موقع پر بحث کو سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ آج مالیاتی بل میں ترامیم پربحث ہوگی مگر اس کی بجائے ہمیں تقریریں دیکھنے کو ملیں۔ 74 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان میں غریب عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کے لئے روڈ میپ دیا گیا ہے اس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ جب 40 لاکھ لوگوں کو گھر ملیں گے، زراعت اور کاروبار کے لئے سود سے پاک قرضے فراہم ہوں گے تو اس سے ملک میں خوشحالی آئے گی اور اپوزیشن فارغ ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے ماضی میں بھی لگائے گئے تھے، موجودہ حکومت نے اس پر عملدرآمد کیا۔ بجٹ میں جو اہداف دیئے گئے ہیں ہم انہیں پورا کرکے دکھائیں گے۔ مہنگائی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت بنیادی افراط زر 7 فیصد کی سطح پر ہے جو ان کے دور حکومت میں بھی تھا۔ غذائی افراط زر میں اضافہ ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں زراعت پر پیسے خرچ نہیں کئے گئے۔

زراعت میں سرمایہ کاری نہ ہونے کی وجہ سے ہم چینی، گندم، دالوں اور دیگر غذائی اشیاء کی درآمد پر زرمبادلہ صرف کر رہے ہیں۔ اس وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں غذائی اشیاء کی قیمتیں دس سال کی بلند ترین سطح پر ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہم نے اپنی زراعت اور زرعی پیداوار کو ترقی دینا ہے۔ مالی سال 18۔ 2017ء میں زراعت پر 1.6 ارب روپے خرچ کئے گئے جبکہ نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں حکومت نے زراعت کی ترقی کے لئے 63 ارب روپے رکھے ہیں، کھادوں اور کیڑے مار ادویات کے لئے بالترتیب 100 ارب روپے اضافی ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لئے ہم ٹرکل ڈائون پر انحصار نہیں کریں گے۔ چالیس لاکھ گھرانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے گا جس کے نتیجے میں غربت کم ہوگی اور چار سے پانچ برسوں میں خوشحالی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کی جانب سے آئی ایم ایف کا ذکر کیا گیا ہے، جب 20 ارب ڈالر کا خسارہ ورثے میں ملے تو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ آئی ایم ایف نے سخت شرائط پر معاہدہ کیا۔ اس کے بعد کورونا وائرس کی عالمگیر وبا آئی جس میں دنیا بھر کی معیشتوں میں منفی گروتھ ہوئی۔ تنقید میرٹ پر ہونی چاہیے، تنقید میں آنے والی تجاویز کو ہم میرٹ پر چیک کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو گرفتاری کا اختیار دینے کا تاثر درست نہیں ہے صرف سیکشن 203 میں اصلاحات کی گئی ہیں۔ گرفتاری کا اختیار ایف بی آر کے پاس نہیں بلکہ تھرڈ پارٹی سسٹم کی بنیاد پر ہوگا جس کی ایک کمیٹی ہوگی جس کی سربراہی میں خود کروں گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جان بوجھ کر ٹیکس چھپانے اور ادا نہ کرنے والوں کو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ پاکستان میں جی ڈی پی کی شرح سے ٹیکسوں کی کمی بہت کم ہے اس کو ہم نے بڑھانا ہے۔ بجٹ میں ہم نے ٹیکسوں کو معقول بنایا ہے۔ آن لائن کاروبار پر کوئی ٹیکس نہیں ہے صرف غیر رجسٹرڈ کاروبار پر دو فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اشیاء خوراک، تنخواہ دار طبقے کے لئے میڈیکل اور پنشن پر ٹیکس کی تجاویز واپس لی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زراعت ترجیحی شعبہ ہے، بجٹ میں اس مقصد کے لئے 62، 63 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ صوبے اس سے زیادہ رقوم خرچ کر رہے ہیں۔ کھادوں کے لئے 70 ارب روپے اور کیڑے مار ادویات کے لئے 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کاٹن پر کوئی ٹیکس نہیں ہے۔ سپنرز جب مصنوعات ٹیکسٹائل سیکٹر کو بیچتے ہیں تو یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے، صرف اسے ٹیکس میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح بنولا کے بیج کسان آئل کمپنی کو بیچتے ہیں اور آئل کمپنیاں ان کو ادائیگی کرتی ہیں، یہ ٹیکس صرف ان پر ہے اس کو معقول بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 18 ٹریلین روپے کی تجارت ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہے۔

صرف ساڑھے تین ٹریلین ٹیکس نیٹ میں ہیں۔ ہم نے اسے چار سے پانچ ٹریلین تک بڑھانا ہے اس سے ریونیو میں اضافہ ہوگا۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں میں اضافے کا تاثر درست نہیں ہے۔ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والی تجارت پر ٹیکس صارفین سے سیلز ٹیکس کی صورت میں وصول کیا جارہا ہے لیکن یہ حکومتی خزانے میں نہیں آرہا۔ ان اقدامات سے عام آدمی پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے لئے یہ بل سب سے اہم قانون سازی ہوتی ہے۔ ہم چاہتے تھے کہ ملک اور عوام کے بڑے مسائل کا بجٹ میں ازالہ کیا جاتا، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ افراط زر ہے۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کی بجائے بجٹ میں ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے لئے اقدامات ہونے چاہئیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کو فنانس بل کے ذریعے بہت زیادہ اختیارات دیئے جارہے ہیں۔ اس سے کاروباری طبقہ کے لئے مشکلات بڑھیں گی۔ توانائی کی قیمتوں پر قابو پانے کی بجائے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس عائد کئے جارہے ہیں۔ چاندی پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی رکن عائشہ غوث پاشا نے کہا کہ وزیر خزانہ نے جن باتوں کا بجٹ تقریر میں ذکر کیا ہے فنانس بل اس کے الٹ ہے۔

دیہی علاقوں میں سرمایہ کاری پر پہلے سال مراعات واپس لی گئی ہیں۔ وزیر خزانہ کہہ رہے ہیں کہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں گی مگر ٹیکس کا نظام پیچیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت بحالی کے مرحلہ میں ہے، ٹیکس گزار پریشان ہے اس لئے ضروری تھا کہ ٹیکس میں اضافہ نہ ہوتا مگر اس کے برعکس تنخواہ دار طبقہ کے لئے میڈیکل اور دیگر سہولیات پر ٹیکس کی تجویز دی ہے۔

ایس آر اوز سے پارلیمان کی بالادستی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ وزیر خزانہ اس ایشو پر توجہ دیں۔ فنانس بل میں ٹیکس دائرہ کا تین شعبوں میں صوبائی ٹیکسیشن کے اختیار میں مداخلت ہے۔ غیر منقولہ پراپرٹی پر نیشنل گین ٹیکس اور ورکرز ویلفیئر فنڈ صوبائی سبجکیٹ ہیں۔

شاہدہ اختر علی نے کہا کہ 57 فیصد ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقہ پر ڈالا جارہا ہے۔ شاہدہ اختر علی نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے الائونسز پر ٹیکس عائد کرنا ظلم ہوگا۔ نواب یوسف تالپور نے کہا کہ زراعت کے شعبے کو ریلیف نہ دیا گیا تو معیشت ٹھیک نہیں ہوگی۔ 1991ء کے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد نہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ پانی کی تقسیم کے معاملے پر پنجاب اور سندھ کے درمیان اختلافات پیدا کئے جارہے ہیں۔

ارسا اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن علی پرویز ملک نے کہا کہ کپاس اور بنولہ پر 17 فیصد سیلز ٹیکس سے کاشتکاروں کا نقصان ہوگا اور کپاس کی پیداوار بھی متاثر ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈائریکٹ ٹیکسوں کے ذریعے ہم افراط زر پر قابو پانے سمیت عوام کو ریلیف دے سکیں گے۔ ہاشم نوتیزئی نے کہا کہ ہر ماہ پٹرولیم مصنوعات میں پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام پر بوجھ پڑتا ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کا ذریعہ معاش کاشتکاری ہے۔ بلوچستان کے ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا جائے۔ بلوچستان میں انٹرنیٹ کی فورجی سہولت فراہم کی جائے۔

سید خورشید شاہ نے کہا کہ میں تلخیوں کی باتیں نہیں کرنا چاہتا، بجٹ تک محدود رہنا چاہتا ہوں۔ نئے وزیر خزانہ ہمارے دوست ہیں، ہمیں امید تھی کہ ٹیکس فری بجٹ ہوگا مگر گیارہ بارہ سو ارب کے نئے ٹیکس عائد کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار اعداد و شمار پر نہیں ہوتا بلکہ معیشت کا اندازہ لوگوں کے طرز زندگی سے لگایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمان ایک سپریم ادارہ ہے۔ تعلیم کا بجٹ 1.6 فیصد ہے۔ 1996ء میں یہ بجٹ اڑھائی فیصد تھا۔ صحت کے بجٹ میں کمی ہوئی ہے، آن لائن کاروبار پر ٹیکس لگائے گئے، بلاواسطہ اور بالواسطہ ٹیکس کی شرح بتائیں پھر فنانس بل منظور کرائیں۔ براہ راست ٹیکس سے لوگ براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ بجٹ کو عوامی بنایا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے پر سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اس ایوان میں اسمبلی کے آغاز پر قائد حزب اختلاف نے میثاق معیشت کی پیشکش کی، اس خواہش کو غلط سمجھا گیا، ملک کے مفاد میں سب اس پر تیار ہیں، سرکاری اور فوجی ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ صنعت کے لئے اراضی ارزاں نرخوں پر دی جائے۔

آزاد رکن قومی اسمبلی علی وزیر نے کہا کہ ضم شدہ فاٹا کے اضلاع کو دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لئے مناسب بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ فلاحی اداروں کے لئے ٹیکس چھوٹ اچھی تجویز ہے تاہم اس میں پسند و نا پسند نہیں ہونی چاہیے۔ مسلم لیگ (ن) کے خرم دستگیر نے کہا کہ رواں سال بجٹ خسارہ 3860 ارب روپے کا ہے، سیلز ٹیکس کی شرح 20 فیصد تک بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹیکسوں میں ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا حصہ 70 فیصد ہے۔ متوسط طبقہ پریشان حال ہے