القادر یونیورسٹی اور رحمت اللعالمین اتھارٹی آئندہ نسلوں کو سیرت النبی ﷺ، اولیاکرام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور کردار سازی کے لئے تحقیق کے اہم مراکز ہوں گے، وزیراعظم عمران خان

القادر یونیورسٹی اور رحمت اللعالمین اتھارٹی آئندہ نسلوں کو سیرت النبی ﷺ، اولیاکرام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور کردار سازی کے لئے تحقیق کے اہم مراکز ہوں گے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔:وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی جامعات میں تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کو سیرت النبی ﷺ، اولیاکرام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور کردار سازی کے لئے القادر یونیورسٹی اور رحمت اللعالمین اتھارٹی تحقیق کے اہم مراکز ہوں گے۔

القادر یونیورسٹی مسلم امہ کو درپیش فکری مسائل کو سلجھانے کے حوالے سے عالمی سکالرز کے تعاون سے تحقیق و مباحثہ کا محور بنے گی ، قرآنی احکامات کے باوجود معاشرے میں اجتہاد سے دوری بدقسمتی ہے، عظیم قوم بننے کے لئے عظیم کردار چاہیے، اخلاقی اقدار کے حامل معاشرے کو ایٹم بم بھی تباہ نہیں کرسکتا ،خود غرض، بزدل اور بدعنوان شخص کبھی لیڈر نہیں بن سکتا ۔

پیر کوجہلم میں القادر یونیورسٹی کے اکیڈمک بلاکس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتےہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں تاریخ کا طالب علم ہوں، میں نے تاریخ کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔ پاکستان اپنے قیام کے بعد تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ 1960 کی دہائی میں دنیا میں پاکستان کی ایک حیثیت تھی اور پاکستانیوں کی دنیا میں بہت عزت تھی۔ اس وقت یہ پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ پاکستان ایشیا کا کیلیفورنیا بننے جا رہا ہے،

پھر ہم نے یہاں زوال آتے دیکھا ۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے عقیدے کی بنا پر سیاست میں آیا کیونکہ سیاست میں آنے سے پہلے میں دولت ، شہرت سمیت سب کچھ دیکھ اورحاصل کرچکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی انسان پر اللہ کی سب سے بڑی نعمت ایمان ہے، ایمان والا آدمی دولت ، شہرت ، انا ، ذات ، برادری کی زنجیروں کے خوف سے آزاد ہو جاتاہے جب انسان ان زنجیروں سے آزاد ہو جائے تو اس کی صلاحیت کو بروئے کار آنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔

انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ، اسے وہ صلاحیتیں دیں جو کسی اور مخلوق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مدینہ کی ریاست کا مطالعہ کیا ، آخر کیا وجہ تھی کہ 2 سپر پاورز کی موجودگی میں بظاہر کم پڑھے لکھے لوگوں نے دنیا کی امامت شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا ۔ میں اپنے مطالعہ سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جب تک ہم سیرت النبی ﷺ پر نہیں چلیں گے ،علامہ اقبال کےخواب کی تکمیل نہیں کرسکیں گے۔