وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے اجلاس میں بریفنگ

جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں ہوتا،خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں،سیاسی اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری پارلیمنٹ کا یک آوازہونا خوش آئند ہے، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے اجلاس میں بریفنگ

اسلام آباد:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل نہیں ہوتا،خطے میں دیرپا امن ممکن نہیں،سیاسی اختلافات کے باوجود مسئلہ کشمیر پر پوری پارلیمنٹ کا یک آوازہونا خوش آئند ہے،تمام ادارے ایک صفحہ پر ہیں،5 اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدام کے بعد اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا،سلامتی کونسل میں ان کے دعوے کی عملاً نفی ہوئی، او آئی سی، اقوام متحدہ کے بعد دوسرا بڑا فورم ہے۔

پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کا اجلاس پیر کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا جس میں پاکستانی نژاد امریکی ڈیموکریٹک رہنما طاہر جاوید نےاجلاس میں شرکت کی۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی فورمز پر اجاگر کرنے پر پاکستانی تارکین وطن کے کردار کو سراہا،، امریکی ڈیموکریٹک رہنما، نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی امریکہ میں بہت متحرک ہے،،ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بذریعہ واٹس ایپ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ساتھ رابطہ استوار کیے ہوئے ہیں۔

چئیرمین کشمیر کمیٹی نے کہا کہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے امریکہ سمیت مختلف ممالک میں، مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اہم شخصیات سے ملاقاتوں میں میری معاونت کی، وزیر خارجہ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے نیویارک میں او آئی سی کنٹیکٹ گروپ برائے کشمیر کے اجلاس میں مجھے شرکت کا موقع فراہم کیا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اجلاس میں بھارتی غیر قانونی زیرتسلط جموں و کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ27 اکتوبر 1947 سے مسئلہ کشمیر سلگ رہا ہے،سب حکومتوں نے مسلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کی اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کی ہے۔