امور نوجوانان کو محکمہ کھیل کے تحت دیکھا جانا منطق سے خالی ہے:وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت

اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے 14نئی سفارشات جبکہ دو سابقہ ایجنڈے پیش کئے گئے جن میں سے نصف سے زائد کی منظوری دے دی گئی

امور نوجوانان کو محکمہ کھیل کے تحت دیکھا جانا منطق سے خالی ہے:وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت

لاہور: امور نوجوانان کو محکمہ کھیل کے تحت دیکھا جانا منطق سے خالی ہے۔ انٹرنیٹ کی عام دستیابی اور جدید سیل فونز کی موجودگی میں ای لائبریریز کا کوئی معقول جواز باقی نہیں رہا نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے اس سے بہتر اور پائیدار منصوبے متعارف کروائے جا سکتے ہیں۔ دارلسلام لائبریری سمیت تاریخی اثاثوں کی مناسب نگہداشت کو یقینی بنایا جائے۔ محکمہ سیاحت و آثار قدیمہ کے تحت مقامات پر فلم ریکارڈنگز، فوٹو شوٹس اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ایس اوپیز پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔ہسپتالوں میں نئی مشینوں کی فراہمی سے قبل پرانی مشینوں کے ناقابل استعمال ہونے کی تصدیق کروائی جائے۔ محکموں میں نئی بھرتیوں کی سفارشات کی کی تیاری کے دوران پوسٹ کورونا کفایتی اقدامات کو مد نظر رکھا جا ئے۔ پبلک سیکٹر کے حجم میں غیر ضروری پھیلاؤ کی کسی صورت حوصلہ افزائی نہیں کی جائے گی۔ ہیلتھ کارڈ ز کے اجراء کے بعد علاج کی مد میں وصول کی جانے والی خصوصی گرانٹس کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔

 

ان خیا لات کا اظہار وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے آج ایوان وزیر اعلیٰ میں کابینہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ڈویلپمنٹ کے ۴۴ ویں اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے 14نئی سفارشات جبکہ دو سابقہ ایجنڈے پیش کئے گئے جن میں سے نصف سے زائد کی منظوری دے دی گئی۔ محکمہ ہاؤسنگ اینڈ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کی جانب سے صاف پانی کمپنی کے تحت نصب شدہ واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مرمت اور بحالی اور واسا فیصل آباد کی  واجب ادا رقوم کی ادائیگیوں کے لیے فنڈز کے اجراء، باغ جناح میں دارالسلام لائبریری کے اخراجات کے لیے 4.0ملین کی سپلیمنٹری گرانٹ،پنجاب میں آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی سیاحت کے لیے انٹری، فلمز اور برائیڈل شوٹس اور سٹل فوٹو گرافی کی فیس میں اضافے، محکمہ خوراک کو کراچی میں گوادر پوسٹ اور پورٹ قاسم میں برآمدات کے معاملات کے لیے کیمپ آفس کے قیام اور محکمہ صحت کے اہلکار کی اہلیہ کے علاج کے لیے گرانٹ کی منظوری دے دی گئی جبکہ گندم کی خریداری سے متعلق معاملات کو مکمل کابینہ کے اجلاس میں زیر بحث لانے کی اور محکمہ مواصلات کی سڑکوں کی تعمیر کے منصوبہ پر عملدرآمدکے لیے منصوبہ میں سفارش کردہ سکیموں کی شمولیت کے بعد آئندہ اجلاس میں لانے کی ہدایت کی گئی۔