قائد ایوان کو پہلی تقریر کے موقع پر نہ روکا جاتا تو یہ نوبت نہ آتی، ہمیں پارلیمانی آداب سکھانے والے بتائیں کہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی ، قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن اراکین کو نمائندگی کیوں نہیں دی جارہی، شاہ محمود قریشی

قائد ایوان کو پہلی تقریر کے موقع پر نہ روکا جاتا تو یہ نوبت نہ آتی، ہمیں پارلیمانی آداب سکھانے والے بتائیں کہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی ، قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن اراکین کو نمائندگی کیوں نہیں دی جارہی، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خبردار کیا ہے کہ اگر قومی اسمبلی میں قائد ایوان کو بات نہیں کرنے دی جائے گی تو قائد حزب اختلاف اور بلاول بھٹو زرداری بھی بات نہیں کر سکیں گے، ہمیں پارلیمانی آداب سکھانے والے بتائیں کہ میثاق جمہوریت کے مطابق سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی سربراہی کیوں نہیں دی جارہی، قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن اراکین کو نمائندگی کیوں نہیں دی جارہی،

افغانستان کی صورتحال پر آج جمعرات کو پارلیمانی قیادت کو مدعو کیا ہے جنہیں بریفنگ دی جائے گی۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری ، شاہد خاقان عباسی ، اسعد محمود اور خواجہ آصف کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہاں پر یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ یہ بجٹ پاکستان کے عوام کا ترجمان نہیں تو جواب یہ ہے کہ قوم کے 172 نمائندوں نے اپنے ووٹ سے بجٹ پر اعتماد کا اظہار کیا۔

ایوان کی واضح اکثریت نے اس کی حمایت کی، خواجہ آصف نے ووٹ کو عزت دو کی بات کی تو ہم یہ کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دینی چاہیے تاہم حکومتی بنچوں پر بیٹھے لوگ بھی عوام کا ووٹ لے کر آئے ہیں ان کے ووٹ کا بھی احترام ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب حکومتی ارکان کی بات میں دخل اندازی ہوگی تو ووٹ کو یکطرفہ عزت نہیں ہو سکتی، یہ دوطرفہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ خطے اور افغانستان کے حالات پر خواجہ آصف کی بات سے اتفاق ہے،

اس صورتحال کے تناظر میں ہم نے پوری اپوزیشن کو دفتر خارجہ میں بلایا اور ان کے سامنے افغانستان کی صورتحال پر اپنا موقف رکھا۔ انہوں نے اس پر اپنے لیڈروں کو اعتماد میں لینے کی تجویز دی، اب اس پر یکم جولائی کو تین بجے اپوزیشن کے پارلیمانی لیڈروں کو مدعو کیا ہے ان کے سامنے ساری صورتحال رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے رولز کا حوالہ دیا ، میں حکومتی بنچوں کی طرف سے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں۔

سپیکر ایوان کا کسٹوڈین ہے اس کو تنقید کا نشانہ بنانا پارلیمانی روایات کے خلاف ہے اس کی رولنگ کے خلاف بات ہو سکتی ہے اسے تضحیک کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اس چیز کو سامنے رکھ کر ملک کا سابق وزیراعظم جو الفاظ کہتا ہے کیا وہ اس کا احترام ہے۔

یہاں پارلیمانی روایات کی بات کی گئی، بلاول بھٹو بتائیں سندھ میں قائد حزب اختلاف کو خطاب کا موقع نہیں دیا گیا، یہ کون سی روایات ہیں، سندھ کے وزیر خزانہ بجٹ سمیٹے بغیر چلے گئے ۔ میثاق جمہوریت میں لکھا گیا پی اے سی کا چیئرمین اپوزیشن لیڈر ہوگا، سندھ میں ایسا نہیں کیا گیا۔

سندھ میں قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کو آپ کس قانون کے تحت چیلنج کر سکتے ہیں۔ اپوزیشن کو طے شدہ وقت سے زیادہ دیا گیا جبکہ سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو بات نہیں کرنے دی گئی، یہ روایات کی بات کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیا اچھی بات ہوتی یہ بتاتے کہ سندھ میں ہم نے یہ روایات قائم کیں یہاں بھی کریں، یہ آئینہ دکھاتے ہیں ، خوددیکھتے نہیں ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن کی طرف سے کٹوتی کی تحریک پر ان کی بات سنی گئی، اس کا جواب دیا گیا۔ پھر ووٹ ہوا اس میں انہیں شکست ہوئی اس کو تسلیم کریں۔

اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہی جمہوریت اور اس کی اقدار ہیں۔ قوم پوری طرح جانتی ہے کہ اس کے خزانے کے ساتھ ماضی میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ قوم جانتی ہے کہ یہ 20 ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑ کر گئے۔ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر نہ ہونے کے برابر تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں سپیکر کی جانبداری کی بات کی گئی، میں آپ کے حوصلے اور صبر کو داد دیتا ہوں، یہ پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں، یہ بتائیں کہ مالی بل کی منظوری جیسی اہم قانون سازی کے موقع پر قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے 25 اراکین غیر حاضر کیوں تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں منتخب وزیراعظم کو پہلی تقریر نہیں کرنے دی گئی، ہم انہیں کہتے ہیں کہ آئیں مل بیٹھ کر طے کرلیں یہ حکومتی بنچوں کو بولنے دیں گے تو ہم ان کی بات سنیں گے۔ یہ اگر حکومتی اراکین کی عزت کریں گے تو ہم ان کے نکتہ نظر کا احترام کریں گے لیکن شور شرابے سے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمیں دبا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر قائد ایوان کو پہلی تقریر کے موقع پر نہ روکا جاتا تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ کان کھول کر سن لیں اگر اس ایوان میں عمران خان نہیں بولے گا تو یہاں قائد حزب اختلاف اور بلاول بھٹو بھی نہیں بول سکے گا۔ اگر یہ روایات پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں لیکن اگر یہ ہمیں دبانا چاہتے ہیں تو ہم نہیں دبیں گے.