بیچارے بزرگ لوگ!

عطا ء الحق قاسمی

بیچارے بزرگ لوگ!

یہ کورونا کے دنوں کی بات ہے میں ایک روز اپنے گھر کے برآمدے میں بیٹھا دنیا کی بےثباتی پر غور کرتے سوچ رہا تھا کہ کسی جنگل کی طرف نکل جاؤں اور کسی برگد تلے گیان دھیان میں مشغول ہو جاؤں، جب نروان مل جائے تو کورونا کے ساتھ وہ سلوک کروں کہ وہ دنیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے اور باقی عمر شرمندگی کے مارے ماسک، دستانے اور سینٹائزر کے بغیر گھر سے نہ نکلے کہ کوئی اس کے قریب بھی نہ پھٹکے۔اتنے میں ملازم نے مجھے آ کر بتایا کہ ایک صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں، میں نے نام پوچھا تو اس نے کہا بس میں اُن کا بہت بڑا مداح ہوں۔ خیر وہ صاحب تشریف لائے۔ میں نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔انہوں نے بتایا میرا نام عبدالشکور ہے، آپ کی مزاح نگاری کا اسیر ہوں، بڑی خواہش تھی کہ ایک بار آپ سے ملاقات ہو جائے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا ان دنوں سمجھدار لوگ گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے۔ میں آپ کی محبت کا قائل ہو گیا ہوں کہ آپ چلے آئے۔بولے ’’میں شاید حالات نارمل ہونے کا انتظار کرتا لیکن کورونا وائرس سے معمر لوگوں کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہوتا ہے، سوچا کوئی پتا نہیں آپ کب فوت ہو جائیں، اس لئے میں نے دیر سے آنے کا رسک نہ لیا‘‘۔ اس پر میں نے اپنے ملازم کو چائے کا کہا۔وہ چائے لایا تو میں نے کہا انہیں چائے پیش کرنے سے پہلے ان کے ہاتھ چومو، ان سے معانقہ کرو، تمہیں اندازہ نہیں میری محبت میں کس قدر خطرناک حالات میں یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں۔ یہ سن کر شکور صاحب کے چہرے پر ممنونیت کے آثار نمایاں ہوئے۔انہوں نے خود اپنے ہاتھ میرے ملازم کی طرف بڑھائے اور اٹھ کر اس سے بھرپور معانقہ بھی کیا۔ ملازم کے جانے کے بعد میں نے موصوف کو بتایا کہ اس غریب شخص کو کورونا ہو گیا ہے۔آپ سے اس لئے ملایا کہ آپ جیسی محبت کرنے والی شخصیت سے میری دوبارہ ملاقات ہوتی ہے کہ نہیں؟ اس کے بعد مجھے کچھ پتا نہیں چلا کہ وہ کب اٹھے اور کب مین گیٹ سے نکلے۔

یہ اکیلے شکور صاحب کا معاملہ نہیںتھاان دنوں لوگ صحت مند معمر لوگوں کو بھی ایسے دیکھتے تھے جیسے آخری دیدار کر رہے ہوں مگر قابلِ داد ہیں وہ لوگ جو بنی نوع انسان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ اس محبت میں انہوں نے خونی رشتوں کو بھی نظر انداز کر دیا ،اس تمام عرصے میں اپنے معمر عزیزوں، جن کو کوئی بیماری بھی نہیں، وہ ملنے بھی نہ آئے کہ کہیں ان کی آل اولاد کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑ جائیں۔ بزرگ تو بیچارے خود گھروں میں سہمے بیٹھے ہوتے، بار بارہاتھ دھونے سے اب صرف ہاتھوں کے نشان باقی رہ گئے تھے، وہ روزانہ اپنے گھر کی ہر چیز کو ڈیٹول سے غسل دیتے ہیں کہ احتیاط تو پھر بھی لازم تھی۔

ان دنوں کورونا پھر سر اٹھا رہا ہے، اب پھر وہی مناظر دکھائی دیں گے، ویسے کسی خاندان میں بزرگوں کی برکت والا تصور اپنی جگہ، یہ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں، مگر اس مخلوق کے ساتھ سلوک شروع سے ایسا تو نہیں اس سے ملتا جلتا ضرور ہوتا رہا ہے۔ مجھے یاد ہے جوانی کے دنوں میں ہمارے ایک بزرگ ادیب تھے، جنہوں نے لمبی عمر پائی۔ان دنوں جب کوئی جوان شخص فوت ہوتا تو ہم لوگ کہتے یار دیکھو اس کی عمر ابھی مرنے کی تھی؟ دوسری طرف وہ نوے سے اوپر ہیں مگر ابھی تک زندہ ہیں۔ایک دن میں ان بزرگ سے ملنے گیا۔ اس روز میرے ساتھ بھولا ڈنگر بھی تھا۔ ہم بڑے خوشگوار موڈ میں گپ شپ کے دوران چائے کی چسکیاں اور اس زندہ بزرگ کی چٹ پٹی گفتگو کے مزے لے رہے تھے کہ اچانک ایک صاحب اندر داخل ہوئے اور انہوں نے یہ ہولناک خبر سنائی کہ فلاں نوجوان ادیب وفات پا گئے ہیں۔پیشتر اس کے ہم اس سانحہ پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے، بھولے ڈنگر نے بزرگ ادیب کو مخاطب کیا اور کہا ’’بزرگو مرنے کی عمر آپ کی ہے مگر مر وہ گیا، جس نے ابھی کچھ دیکھا ہی نہ تھا‘‘ واضح رہے اس سے اگلے روز ہی وہ بزرگ مارے خوف کےفوت ہو گئے۔

کسی زمانے میں پی ٹی وی نے آرکائیو کے تحت معمر ادیبوں کے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا۔ ابوالاثر حفیظ جالندھری کا بھی ایک بھرپور انٹرویو کیا گیا۔ انٹرویو کے اختتام پر حسبِ معمول پروڈیوسر اور اینکر، حفیظ صاحب کے کمالِ فن کی تعریف کر رہے تھے، اتنے میں پروڈیوسر حفیظ صاحب کے اس پروگرام کا چیک لے کر آیا۔حفیظ صاحب نے فارم پر دستخط کئے، چیک جیب میں ڈالا اور پھر اپنے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے دائیں بائیں ہوا میں گھماتے ہوئے پروڈیوسر کو مخاطب کر کے کہا ’’مجھے پتا ہے کہ تم نے یہ انٹرویو میری موت کے بعد چلانا ہے مگر بچُّو میں نے مرنا ورنا کوئی نہیں‘‘۔

آخر میں مجھے صرف یہ کہنا ہے کہ ان دنوں پھرمعمر لوگوںکی متوقع وفات کی خبر مسلسل سنائی جا رہی ہے اور یہ بات اتنے یقین سے کہی جارہی ہے کہ بہتر ہوگا ان بزرگوں کے اہلِ خانہ ان کی زندگیوں میں ہی ان کی نمازِ جنازہ کا اہتمام کر لیں کہ کوئی پتا نہیں ان کی وفات کی صورت میں خود ان کے اہلِ خانہ بھی احتیاطاً ان کی نمازِ جنازہ میں شریک ہی نہ ہوں۔

اور اب آخر میں عارف والا کے درویش شاعر یونس متین کی ایک غزل :

میری آنکھوں کو ترے غم سے رہائی نہ ملی

مجھ سے ٹوٹی نہیں زنجیر ترے خوابوں کی

ایک دم تیری ہنسی میں نے مجسم کر لی

میں نے تصویر بنا لی تری آوازوں کی

دھوپ پردیس کی سہتے ہیں جو دن رات متینؔ

فکر مائوں کو لگی رہتی ہے ان بیٹوں کی