وزیراعلیٰ سندھ نے یو آر ایل کیساتھ سندھ ریلیف انیشیٹو ایپلی کیشن قائم کردی

حکومت نے فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ کیا ہے اور انہیں مذکورہ بالا ویب ایڈریس کے تحت رجسٹرڈ کیا جائے گا

وزیراعلیٰ سندھ نے یو آر ایل کیساتھ سندھ ریلیف انیشیٹو ایپلی کیشن قائم کردی

کراچی (عالمین نیوز)وزیراعلیٰ سندھ نے یو آر ایل (ویب ایڈریس) کے ساتھ سندھ ریلیف انیشیٹو ایپلی کیشن قائم کی ہے۔ان کی حکومت نے فلاحی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کا ارادہ کیا ہے اور انہیں مذکورہ بالا ویب ایڈریس کے تحت رجسٹرڈ کیا جائے گا تاکہ ان کے ساتھ مل کر یومیہ اجرات والوں کو راشن ان کی دہلیز پر پہچایا جاسکے۔یہ بات انہوں نے فلاحی تنظیموں کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیر قانون، خصوصی معاونین، مختلف فلاحی تنظیموں کے سربراہ، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس، سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، پرنسپل سیکریٹری، سیکرٹری خزانہ اور دیگر نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ ریلیف انیشیٹو کا مقصد یومیہ اجرت اور مستحق افراد کو ان کے گھروں کی دہلیز پر راشن فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یومیہ اجرت والوں کو ایک اپلی کیشن (ایپ) کے ذریعے رجسٹر کروانا ہوگا اور اس کے بعد حکومت مختلف علاقوں میں فلاحی تنظیموں ساتھ مل کر راشن تقسیم کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری کے مطابق صوبے کی آبادی 50 ملین ہے جن میں سے 10 ملین افراد یا 1.4 ملین خاندان روزانہ اجرت والے ہیں لہذا فلاحی تنظیموں کی ساتھ مل کر حکومت انہیں راشن بیگ فراہم کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ روزانہ دس لاکھ اجرت دہندگان میں سے 25 فیصد تعمیراتی صنعت سے وابستہ ہیں جو ای او بی آئی کے تحت آتے ہیں، 35 فیصد ٹیکسٹائل اور ذیلی صنعتوں سے وابستہ ہیں اور 40 فیصد کارکن ایس ایم ای، کاٹیج اور سڑکوں کے کنارے ٹھیلے لگاتے ہیں اور دکانیں اور ٹرانسپورٹ کی صنعت جو کہ کسی بھی تنظیم جیسے EOBI یا SESSI کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر ایک ایوریج خاندان کو 5500 روپے کا ایک راشن بیگ فراہم کیا جائے اور اس طرح یہ 7.7 ارب روپے رقم بنے گی۔ اگر 1.4 ملین خاندانوں کا احاطہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک مکنزم وضع کر نا چاہتا ہوں کہ ہر ایک خاندان تک پہنچا جا سکے تاکہ کوئی بھی شخص بغیر راشن کے نہ رہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سرکاری اور غیرسرکاری تنظیموں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک ہی پلیٹ فارم کا استعمال کرنا چاہئے تاکہ پورے اخراجات کی مشق میں یکسانیت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم کے لئے معیاری آپریشن کے طریقہ کار پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے دستخط ہوں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ سندھ ریلیف انیشیوٹو ایپ کو تمام ریلیف سرگرمیوں کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ ایپ میں شناختی کارڈ نمبر کو رجسٹر کرکے تقسیم میں یکسانیت کو یقینی بنایا جائے گاتاکہ کوئی ڈپلیکیشن پیدا نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایپ رضاکارانہ انتظام کے ساتھ ساتھ ڈونرز کو رجسٹر کرے گی۔انہوں نے کراچی ریلیف ٹرسٹ، ایدھی، سیلانی ویلفیئر، جے ڈی سی، بیت الاسلام، سٹیزن فاؤنڈیشن، چھپا، زندگی ٹرسٹ، پیشنٹ ایڈ اور دیگر بہت سی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا جو اس اقدام میں حکومت کی مدد کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے تعاون سے فلاحی تنظیموں، جیسے سیلانی، چھپا، عالمگیر، جے ڈی سی، زندگی ٹرسٹ اور دیگر نے مختلف علاقوں میں مزدوروں اور ضرورت مند افراد میں راشن کی تقسیم شروع کردی ہے اور اب تک تقریبا 200،000 خاندانوں کو 15 دن کا راشن بیگ کی امداد فراہم کی گئی ہے۔سرکاری ایپ میں رجسٹریشن:تمام فلاحی تنظیموں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ایپ https://play.google.com/store/apps/details?id=inc.codelabs.krtvolunteer کو لوڈ کریں اور اپنے ا?پ کو رجسٹر کروائیں تاکہ مشترکہ ورکنگ گروپس کو بغیر کسی ڈپلیکیشن کے راشن کی تقسیم کے لئے تیار کیا جاسکے۔ اب تک 12 تنظیمیں حکومت کی ایپ میں شامل ہوچکی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وزیر توانائی امتیاز شیخ، وزیر بلدیات ناصر شاہ اور مشیر قانون مرتضی وہاب عوام کے دروازے پر راشن کی منصفانہ تقسیم کے لئے فلاحی تنظیم کے ساتھ رابطہ کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہ ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی وجہ سے بین الصوبائی مسافر ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد ہے، لیکن اس کے باوجود بھی سندھ سے لوگ پنجاب روانہ ہوجاتے ہیں اور سرحد پر پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے پنجاب حکومت کے ساتھ مشاورت سے مسافروں کی ا?مد رفت کیلئے اپنی سرحدیں سیل کردی ہیں، لہذا وہ انہیں پنجاب میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ ان نازک دنوں میں اپنا گھر نہ چھوڑیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ داخلہ کے توسط سے انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ بین الصوبائی مسافر ٹرانسپورٹ کو اجازت نہ دیں۔انہوں نے کہا کہ عوام سیدرخواست ہے کہ سفر کرنے کی زحمت نہ کریں۔