اُمہ کی سیاست کا محور: لا الہ الااللہ: قدیر صدیقی

اُمہ کی سیاست کا محور لا الہ الااللہ ہے اس بات کا اعادہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے تاریخ ساز خطاب میں دبنگ انداز میں کردیا ۔

اُمہ کی سیاست کا محور: لا الہ الااللہ: قدیر صدیقی

 عصر حاضر کے شیطان ثلاثہ میں عیاری اور مکاری جتنی بھی عروج پرہو اور انہیںدولت اور جدید سامان حرب پر جنتا بھی گھمنڈ ہو مگر ان پر لا الہ الااللہ کی ہیبت کا لرزہ طاری ہوچکا۔ عالم کفر پر یہ ہیبت اسی صورت طاری رہ سکتی ہے جب اُمہ اس مو¿قف کا نہ صرف زبانی اعادہ جاری رکھے بلکہ اللہ سے عہد کی بناپر تشہیر کلمة الحق کے لئے سینہ سپر ہوجائے، اس یقین کے ساتھ کہ قرآن میں اللہ کے اس وعدہ کے بعد کہ ،ترجمہ: یہ کافروں کو چاہے جتنا بھی ناگوار گذرے، اللہ کا دین غالب آکر رہے گا کہ جب اُمہ کی سیاست کامحور صرف اور صرف کلمہ طیبہ ہوگا تو اقوام عالم کے ساتھ ہماری دوستی اوردشمنی اللہ کے حکم اوررضا کے مطابق ہوگی، پھر فلسطین ہو یاکشمیر، یامیانمار ہر مقام پرصلح یاجنگ اللہ کے حکم کے مطابق ہوگی۔ اللہ کی رضا کے سامنے سر تسلیم ختم کرلینا ہی ماضی میں ملت اسلامیہ کی کامیابی کی بنیادرہا ہے اورآج بھی یہی روش ہمیںاللہ کے سامنے اور گلوبل ویلج میں ممتاز کرسکتی ہے۔

یہ بات خوش آئند ہے اور اس پر وزیراعظم پاکستان کو جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے ،کم ہے کہ انہوںنے اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیاہے کہ اسلام کی تعلیمات وہی مستند ہیں جواللہ کی طرف سے احمدمجتبےٰ، محمدمصطفےٰ کی وساطت سے ہم تک پہنچیں اورہم انہی پر کار بند ہیں ۔ہم اسلام کے نام پر کسی مُلاازم کونہیں مانتے۔ مقصد یہ کہ ہمارا تو جینا مرنا ہی ان اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے جورسول اللہﷺ کی وساطت سے ہم تک پہنچا ،چنانچہ اقوام عالم کوملت اسلامیہ کے خلاف دوغلی پالیسی ترک کرکے خلوص نیت سے سب معاملات طے کرنے چاہیں۔ اگر عالم کفر کواپنے مفادات عزیز ہیں توعالم اسلام کو کیوں نہیں؟ ہمارا طرز معاشرت منفرد ہے ہم اسی کے پابند ہیں اوراسی میں خوش ہیں اور اگر کہیں خرابی بھی ہے تو اصلاح کے راستے بھی موجود ہیں۔

عدم جارحیت اورتوسیع پسندانہ عزائم نہ رکھنا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے ہم اسی پر کاربند ہیں اور اسی پر کاربند رہیں گے۔ تاہم اگر کوئی ہمسایہ ملک یا کوئی سپر طاقت ہم پر محض طاقت کے نشے میں غلبہ پانے کی سوچ رکھتی ہے تواس کی خام خیالی ہے کہ وہ ہم پر غلبہ پالے گی۔ مودی سمیت وقت کا کوئی بھی ہٹلر ہمیں، اس لئے کمزور نہ سمجھے کہ ہم بار بار اُمن کی بات کرتے ہیں پاکستان کی یہ پالیسی دراصل ”جیو اور جینے دو“ کی پالیسی ہے ۔یہ پالیسی پردان چڑھے گی تودنیا میں امن قائم ہوگا اور ترقی کی راہیں ہموار ہونے سے گلوبل ویلج سے غربت اور جہالت اپنا بوریا بستر گول کرے گی اور اگر ”جیو اورجینے دو“ کی پالیسی کے برعکس جارحانہ اور توسیع پسند انہ پالیسی جاری رہی، جیسے کہ وقت کا شیطان ثلاثہ اپنی اسلحہ ساز فیکٹریاں چلانے کی پالیسی پر کار بند ہے توپھر ہمیں ہر جارحیت کاہرمقام پراسی انداز میں جواب دینے کے لئے تیار رہنا چاہیے جس زبان میں اسلام کے دشمن سمجھتے ہیں۔

عالمی حالات حاضرہ کے تناظر میں بات کی جائے تو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان کی تقریر اقوام عالم کو امن کاواضح پیغام دینے کے ساتھ ساتھ یہ پیغام بھی ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں بھارت اورپاکستان دونوں ایٹمی طاقتیں مسئلہ کشمیر پر آمنے سامنے ہیں۔ پاکستان کشمیر یوں سے لا الہ لا اللہ کے مضبوط رشتہ کی بناپر مزید ظلم اوربربریت برداشت نہیں کرسکتا چنانچہ اگراہل کشمیر پر اگر ظلم جاری رہا اوراس مسئلہ پر جنگ چھڑگئی تواس کی تمام تر ذمہ دار ی عالمی برادری ہوگی جومقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ عوام کو گذشتہ دو ماہ سے جبری قید میں دیکھ کر بھی خاموش ہے ۔ اقوام متحدہ خاموشی توڑے اوراپنی ہی منظور کردہ قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کو بھارت سے ان کاحق خود ارادیت دلائے نیز امریکہ کوبھی چاہیے کہ وہ سپر پاور ہوتے ہوئے مظلوم کشمیریوں کو انصاف دلائے محض اس لئے خاموش نہ رہے کہ ظلم برداشت کررہے کشمیری مسلمان ہیں یا اگر امریکہ بھارت کو کشمیر میں ظلم سے باز کر ے گا توامریکی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ،حالات ہر طرح سے واضح ہیں کہ اگر ان حالات میں اقوام متحدہ نے مسئلہ کشمیر پر اپنی منظور کردہ قرار دادوں پرعمل درآمد کو یقینی نہ بنایا تو یہ ادارہ واقعی غیر فعال سمجھا جائے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ غیر مسلم ممالک کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی سمیت ان پر روا رکھے گئے ہرظلم پر متفق ہیں اوردنیامیں ان کے انسانی حقوق کے نعرے محض دھوکہ ہیں۔ اس پس منظر میں غیر مسلم طاقتیں یہ جان لیں کہ پاکستان کے غیور مسلمان مزیداس دھوکہ کاشکار نہیں ہوں گے کہ وزیراعظم پاکستان نے یہ بات واضح کرد ی ہے کہ چاہے دنیا بھر سے کوئی ملک ہمارا ساتھ دے یانہ دے، ہم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑ ے ہیں اورکھڑے رہیں گے اوراگر جنگ کی نوبت آئی تو ہمارا ہر سپاہی آخری سانس، آخری گولی تک لڑے گا اورتب کوئی سپر پاور کچھ نہیں کرسکے گی۔

اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان نے لاالہ لاللہ کو اپنی سیاست کا محور قرار دے کر سابق صدر محمدایوب خان کی یاد تازہ کردی ،جب5 196ءمیں بھارت کو رات کی تاریکی میں پاکستان پرحملہ کے جواب میں انہوں نے افواج پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ مکاردشمن جانتا نہیں کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے ۔ افواج پاکستان کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑیں اور پھر دنیا نے دیکھا کہ طاقت کے نشے میں مست بھارتی افواج کو اسلام کے جیالوں نے کیسی دھول چٹائی کہ و ہ آج تک اپنے زخم چاٹ رہے ہےں۔ بھارت سمیت دنیا بھر کو سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام میں آج 1965ءسے بڑھ کر جذبہ جہاد پایا جاتاہے کہ جب اللہ کے نام پر لڑنے کا وقت آتا ہے تو مسلمان دنیاوی مفادات بھول کر صرف اورصرف اللہ کی راہ میں جان دینے کو اپنے لئے اعزاز سمجھتا ہے ۔ بھارت 80 لاکھ نہتے کشمیریوں پر 9لاکھ فوج مسلط کرکے کب تک جبرکرتا رہے گا اگر حالات نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیہ کی مزید خطرناک صورت اختیار کر لی تو بھارت کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ ان حالات میں مودی کو سابق صدر پاکستان محمدضیاءالحق کے راجیوگاندھی کے کان میں یہ کہے ہوئے الفاظ یادرکھنے چاہیں کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں دنیا سے مسلمان توختم نہیں ہوں گے مگر ہندوﺅں کانام ونشان مٹ جائے گا ۔

کاش مودی کی سمجھ میں عمران خان کا خطے میں امن کا دیاگیا پیغام سمجھ میں آجائے اور ایٹمی جنگ کے خطرے کے بادل چھٹ جائیں مگراس بات میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ اقوام متحدہ کو اب اپنا کردار کرنا چاہیے بھارت سمجھ تورہاہے کہ ممکنہ جنگ اسے بہت مہنگی پڑے گی مگرانتہا پسند ہندو مودی کی پشت پناہی سے بھارت کوایٹمی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ مودی کو سمجھنا چاہیے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود پاکستان کے 22کروڑ عوام مسئلہ کشمیر کی نزاکت کے حوالے سے ایک پےج پر ہیں اور افواج پاکستان جو 22 کروڑ عوام کا فخر ہیں، شان ہیں، آن ہیں، ارض پاکستان کے چپہ چپہ کے محافظ ہیں ،ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ ان حالات میں اگر امریکہ خلوص نیت سے چاہتا ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں جنگ کے بادل چھٹ جائیں اور وہ بھی افغانستان سے اپنی فوجیں پراُمن طریقہ سے نکال سکے اور اس حوالے سے پاکستان اس کی مدد کرسکے ،تو ٹرمپ کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دباﺅ ڈالے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرے۔ بصورت دیگر جنوبی ایشیاءمیں مستقل قیام امن کاکوئی حل نہیں اگر بھارت سمجھتا ہے کہ وہ طاقت کے زور پرمقبوضہ کشمیرپر قبضہ برقرار رکھ سکتاہے تویہ اس کی خام خیالی ہے ۔مودی سرکار کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان کی تقریرپر کان دھرنے چاہیں کہ حالات لمحہ بہ لمحہ بھارت کے خلاف شدت اختیار کرتے جارہے ہیں اور وہ دنیا میں تنہا ہوتا جارہاہے ، لہٰذا مودی کو اپنے طرز حکمرانی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔