ہانگ کانگ سے متعلق امریکی اقدام ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے، چین

کسی بیرونی قوتوں کی جانب سے ہانگ کانگ کے معاملات میں مداخلت کی مخلالفت کرنا چین کے تمام عوام کا پختہ عزم ہے

ہانگ کانگ سے متعلق امریکی اقدام ناکام ہوتا دکھائی دے رہا ہے، چین

چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے اخبار نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ہانگ کانگ کی تجارتی مراعات کا خاتمہ چین کے اندرنی معاملات میں 'سنگین مداخلت' اور ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی خبررساں ادارے  چین کے اخبار پیپلزڈیلی میں آج کے اداریے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے ردعمل میں مذکورہ بیان دیا گیا۔

اخبار نے کہا کہ کسی بیرونی قوتوں کی جانب سے ہانگ کانگ کے معاملات میں مداخلت کی مخلالفت کرنا چین کے تمام عوام کا پختہ عزم ہے۔ اس میں کہا گیا کہ ہانگ کانگ کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کا غالبانہ اقدام اور چین کے داخلی امور میں سنگین مداخلت سے چینی عوام خوفزدہ نہیں ہوں گے اور یہ ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔

اخبار نے کہا کہ بلیک میلنگ یا جبر کے ذریعے چین کو بنیادی مفادات بشمول خودمختاری اور سلامتی میں کمی پر مجبور کرنے کوشش کرنا صرف خیالی پلاؤ اور دن میں خواب دیکھنا ہوسکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نیشنل پیپلز کانگریس کی جانب سے ہانگ کانگ پر سیکیورٹی قانون سازی کا نفاذ 'ایک ملک، دو نظام' کے فریم ورک کے تحت ہانگ کے علیحدہ سول، قانونی اور معاشی اداروں کو برقرار رکھنے کے بیجنگ کے عزم کی نفی کرتا ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں کہ اس اقدام سے ہانگ کانگ میں امریکی کمپنیوں یا ایشیا کے مالیاتی حب کے طور پر اس کی حیثیت پر کیا اثرات مرتب ہوں گے بیجنگ کی جانب سے امریکی اقدام کے ردعمل میں کیے جانے والے مخصوص اقدامات کی تفصیل دینا باقی ہے تاہم پیپلز ڈیلی نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ چین بھرپور جوابی کارروائی کے لیے تیار ہے اور آپ صرف شرمناک ناکامی کے منتظر ہیں۔ دوسری جانب ہانگ کانگ میں سیکریٹری برائے جسٹس ٹریسا چینگ نے کہا کہ یہ مکمل طور پر جھوٹ اور غلط ہے کہ علاقہ اپنی خودمختاری سے محروم ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کے مرکزی حکام کے پاس ہانگ کانگ کی قومی سلامتی سے متعلق اقدامات اٹھانے کا مکمل حق ہے۔ دوسری جانب قیاس آرائیاں ہیں کہ واشنگٹن کی جانب سے ردعمل کے طور پر کریک ڈاؤں میں ملوث افراد بشمول ہانگ کانگ پولیس فورس کے اراکین کو امریکی سفری پابندیوں یا دیگر کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ہانگ میں امریکی چیمبر آف کامرس کی صدر تارا جوزف نے کہا کہ یہ اب واضح ہے کہ ہانگ چین اور امریکا کی کشیدگی کے درمیان پھنس گیا ہے۔