اغوا ہونے والی بیٹی 51 سال بعد والدین کو مل گئی

اغوا ہونے والی بیٹی 51 سال بعد والدین کو مل گئی

ٹیکساس: امریکا میں یکساں ڈی این اے کی تصدیق کے بعد ایک خاتون اپنے والدین کو 51 برس کے طویل عرصے بعد دوبارہ مل گئی۔

ٹیکساس کے خاندان کے مطابق ان کی بیٹی کا ڈی این اے ، شجرہ بتانے والی سروس 23 اینڈ می سے معلوم کیا گیا ہے اور اس طرح پانچ عشرے قبل اغوا ہونے والی بیٹی اپنے گھر لوٹ آئی ہے۔

1971 میں میلیسا ہائی اسمتھ کی عمر صرف 22 برس تھی جب اس کی آیا اسے لے کر فرار ہوگئی تھی۔ تاہم اس واقعے کے بعد میلیسا کا نام بدل کر میلانی رکھ دیا گیا جو اس پورے واقعے اور اپنے حقیقی والدین سے یکسر ناآشنا تھی۔

 میلیسا کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ اس کے حقیقی والدین اب تک اس کی تلاش میں ہیں اور آخرکار انہوں نے فیس بک پر رابطہ کیا جسے وہ ایک جھوٹ ہی سمجھی تھیں۔ ان کے والد نے پیغام دیا تھا کہ ’ہم 51 برس سے اپنی بیٹی کو تلاش کررہے ہیں۔‘

اس کے بعد میلیسا نے اپنے پالنے والوں سے پوچھا کہ کیا کوئی بات اس سے چھپائی گئی ہے؟ انہوں نے اس کی تصدیق کی کہ وہ حقیقت میں میلیسا ہی ہے۔ ٹیکساس میں بہت سے بچوں میں ڈی این اے شناخت کا سامان تقیسم کیا گیا ہے تاکہ کوئی ممکنہ گمشدہ بچہ سامنے آسکے۔

 جب ہفتے کے روز میلیسا اپنی حقیقی ماں سے ملی تو انہوں نے پیدائشی نشان کی بنا پر اسے پہچان لیا جو کمر کے اوپری حصے پر تھا اور انہیں یقین ہے کہ میلیسا ان کی وہی بچی ہے جو 22 ماہ کی عمر میں ان سے بچھڑ گئی تھی۔ جب میلیسا اپنے والدین سے ملیں تو بہت جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔

پولیس نے اس واقعے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مکمل تفتیش کے بعد بچی کے اغواکاروں کو کٹہرے تک لے کر آئیں گے۔