بڑھتی آبادی جیسا سنگین مسئلہ عدالت کی تاریخوں کی طرح نہیں بلکہ فی الفور توجہ طلب ہے

جس پر قابو نہ پایا گیا تو وقت دور نہیں پنجاب کی آبادی 11 کروڑ سے بڑھ کر 20 سے 25 ہو جائے گی اور اجناس کی ضروریا ت کو پورا کرنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ہاشم ڈوگر

بڑھتی آبادی جیسا سنگین مسئلہ عدالت کی تاریخوں کی طرح نہیں بلکہ فی الفور توجہ طلب ہے

لاہور:-صوبائی وزیر بہبود آبادی پنجاب کرنل(ر) ہاشم ڈوگر نے کہا ہے کہ بڑھتی آبادی جیسا سنگین مسئلہ عدالت کی تاریخوں کی طرح نہیں بلکہ فی الفور توجہ طلب ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب کی آبادی جو اس وقت 11 کروڑ ہے اگر اب بھی اس پر قابو پانے کا نہ سوچا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب یہ 20سے 25 کروڑ ہوگی اور اجناس کی ضروریات کو پورا کرنا بھی نا ممکن ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج لاہور میں پاپولیشن کونسل اور یو این ایف پی اے کے تعاون سے پنجاب میں کم عمری کی شادی کے حوالے سے رپورٹ کا سیاسی و معاشی تجزیے کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آذادی ریاض فتیانہ نے آن لائن شر کت کی۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہمارا قانوں بھی 18 سال سے کم عمر بچہ ہو یا بچی کسی کو بھی بالغ قرار نہیں دیتا تو پھر بچیوں کی کم عمری میں شادی ان کے ساتھ ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں لوکل گورنمنٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ شادی کی کم از کم عمر 18 سال کرنے کے حوالے سے قانون پر خلاف از جلد کام کرکے اسے اسمبلی میں پیش کریں۔ اس سلسلے میں علماء کونسل سے مشاورت کے عمل کو تیز کیا جائے۔ علاوہ ازیں بچوں کے حقوق سے متعلقہ قوانین پر عملدرآمد کو سخت کیا جائے تاکہ جب والدین پر لازم ہو گا ہو کہ وہ بچوں  سے نوکریوں کی بجائے انہیں تعلیم دیں تو پھر وہ پیسوں کی غرض سے بچے پیدا کرنے سے پہلے 10 مرتبہ سوچیں گے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض فتیانہ نے کہا کہ بچیاں کم عمری میں جسمانی طور پر اس قابل نہیں ہوتیں کہ وہ اتنی جلد حمل اور بچے کی پیدائش کے عمل سے گزریں۔ ہم سب کو مل کر اس کے متعلق سوچنا ہو گا کیونکہ یہ بچہ اور بچی دونوں کے ساتھ ذیادتی ہے۔ تقریب میں سیکرٹری پاپولیشن علی بہاد ر قاضی سمیت لوکل گورنمنٹ کے نمائندے،محکمہ وویمن ڈویلپمنٹ اور پاپولیشن کے افسران نے شرکت کی۔

٭٭٭٭