صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد کی 2 سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس

صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد کی 2 سالہ کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس

لاہور:.  صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ محکمہ صحت پنجاب نے گذشتہ 2سالوں کے دوران شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان وزیراعلیٰ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس اور سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سلوت سعید بھی موجود تھیں۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس موقع پر مزیدکہاکہ آج محکمہ صحت کی 2سالہ کارکردگی کی تفصیلات سے آگاہ کرنا بہت ضروری تھا۔کورونا وائرس ایک ایسی وباء آئی جس نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ امریکہ، برازیل، میکسیکو، ویسٹرن یورپ اور بھارت میں ابھی تک کورونا وائرس نے اپنے پنجے گاڑھے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں تقریباً دس لاکھ افراد لقمہ ئ اجل بن چکے ہیں۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران پنجاب میں 86افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوپائی ہے اور الحمداللہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران صوبہ بھر میں ساڑھے 12ہزار تشخیصی ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں۔پنجاب میں کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد کو بڑھا دیاگیا ہے۔ پنجاب میں تعلیمی اداروں کے دوبارہ کھولنے سے ہم بہت زیادہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کروا رہے ہیں۔اساتذہ یا طلباء و طالبات میں اگر کورونا وائرس کی تشخیص ہوتی ہے تو  فوراً کنٹیکٹ ٹریننگ شروع کر دی جاتی ہے۔ زیادہ متاثر ہونے والے علاقہ جات میں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔اللہ پاک کی خاص مہربانی سے پوری دنیا میں پاکستان کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا ہے۔گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کیلئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے گئے۔ اس وقت صرف ایک لیب میں 3سو سے 4سو تشخیصی ٹیسٹوں کی صلاحیت تھی۔ عالمی ادارہ صحت کی ہدایت کے مطابق ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانے کیلئے صوبہ بھر میں نئی 18جی ایس ایل لیبز قائم کی گئی ہیں جن میں سے 9صرف لاہور میں موجود ہیں۔ کورونا وائرس کے دوران پنجاب بھر میں 20ہزار طبی سہولیات میں اضافہ کرکے بستروں کی تعداد کو بڑھایاگیا ہے۔ وینٹی لیٹرز کی تعداد کو بھی بڑھایاگیا۔ باقی صوبوں کی نسبت پنجاب میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی شرح بہت کم رہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت آئی تو محکمہ صحت پنجاب میں 50فیصد اسامیاں خالی تھیں جس کے بعد ہیلتھ پروفیشنلز کی بھرتی کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیاگیا۔تاریخ میں پہلی بار 32ہزار ہیلتھ پروفیشنلز کو بھرتی کیاگیا۔ہر سطح پر سوفیصد میرٹ پر بھرتی کی گئی ہے جس کی تفصیلات آن لائن بھی جاری کی گئی ہیں۔ شفاف طریقے سے 32ہزار ہیلتھ پروفیشنلز کو بھرتی کرنے کا کریڈٹ حکومت کو جاتا ہے۔جب ہم آئے تو سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کیلئے صرف 50ہزار بستر موجود تھے اب ہم نے بستروں میں بہت زیادہ اضافہ کر دیا ہے۔محکمہ صحت 32ارب روپے کے خسارے پر چل رہا تھا لیکن ہم نے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق درست خطوط پر استوار کیا۔ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ پنجاب کے مختلف اہم اضلاع میں سات مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ سب سے بڑا ہسپتال گنگارام میں 600بستروں پر مشتمل بن رہا ہے جو انشاء اللہ دسمبر 2021ء کو مکمل فعال ہوجائے گا۔آج تک پبلک سیکٹر کے اندر اس نوعیت کا ہسپتال نہیں بنایاگیا۔ماضی میں اس طرز کے سرکاری ہسپتال کبھی نہیں بنائے گئے جن میں گائناکالوجی، یوروگائناکالوجی، اور نیٹل میڈیسن کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس ہسپتال میں نیونیٹل نرسریز کی سہولت موجود ہو گی۔ میانوالی میں 200 بستروں پرمشتمل، سیالکوٹ، راجن پور، اٹک، لیہ اور بہاولنگر مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔ ماضی میں کبھی بھی نرسنگ کی استعدادکار کو نہیں بڑھایا گیا ہے۔  پانچ مدر اینڈ چائلڈ ہسپتالوں کے ساتھ نرسنگ کالجز بنائے جا رہے ہیں۔ سیالکوٹ اور لاہور میں نرسنگ کالجز پہلے سے ہی قائم ہیں۔ ملتان میں نشترٹو 11ارب روپے کی لاگت سے بہت بڑا ہسپتال تعمیر ہونے جا رہا ہے جو 5سو بستروں پر مشتمل ہو گا۔ نشترٹو 2022ء تک انشاء اللہ مکمل ہو جائے گا۔ گنگا رام میں مدراینڈ چائلڈ ہسپتال کا منصوبہ 7ارب روپے کا ہے۔ حکومت کی جانب سے ماں اور بچہ کی صحت کو یقینی بنانے کے لئے بہت زیادہ فنڈز جاری کئے جا رہے ہیں۔ گجرات میں بھی سٹیٹ آف دی آرٹ مدراینڈ چائلڈ ہسپتال بنانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ڈی جی خان میں کارڈیالوجی کا نیا ہسپتال بنایا جا رہا ہے۔ ابھی ہمارے پاس کارڈیالوجی کے مختص ہسپتال لاہور، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں موجود ہیں۔

    صحت انصاف کارڈ 36اضلاع میں تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ اب تک ہم 70لاکھ میں سے 52لاکھ خاندانوں کو صحت انصاف کارڈز تقسیم کر چکے ہیں۔ 2لاکھ سے زائد خاندان اس کارڈ کے ذریعے مستفید ہو چکے ہیں۔ صحت انصاف کارڈ کے حامل افراد کی آسانی کے لئے 273نجی ہسپتالوں کو بھی ان پینل کیا گیا ہے۔ صحت انصاف کارڈ کے لئے مزید 20ہزار بستروں میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ غریب آدمی اپنا بہترین علاج کروا سکیں۔ مریضوں نے صحت انصاف کارڈ کے ذریعے دل کا علاج، ڈائیلسز و دیگر بیماریوں کے علاج میں سہولت حاصل کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے خیبرپختونخوا میں صحت انصاف کارڈ کے لئے یونیورسل کوریج کی ہدایت کر دی ہے۔ جس کی بنیاد پر ہمیں بھی صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگلے فیز میں سفیدپوش طبقے کے لئے بھی اس منصوبہ کو بڑھا رہے ہیں جس پر کام کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی پہلی تقریر میں ماں اور بچے کی صحت پر بہت زور دیا۔  آٹھ اضلاع میں بنیادی صحت مراکز کے اوقات کار 24 گھنٹے کئے جا رہے ہیں۔ مزید بنیادی صحت مراکز قائم کئے گئے ہیں جس کے بعد بنیادی صحت مراکز کی مجموعی تعداد 1280 ہو گئی ہے۔

    اگلے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں تمام 2500 بنیادی صحت مراکز کو 24/7 کر دیا جائے گا۔ ہماری کوشش ہے کہ تمام افراد کو ان کی دہلیز پر صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ حاملہ خواتین کو ایمرجنسی کی صورت میں فری ایمبولینس سروس کے ذریعے سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔ محکمہ صحت پنجاب مختلف ورٹیکل پروگرامز کے تحت لاکھوں مریضوں کو صحت کی مفت سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ بجٹ میں 11 ارب روپے صرف ورٹیکل پروگرامز کے لئے مختص کئے گئے2012ء سے زیرتعمیر انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی راولپنڈی کو اگلے 45 دن میں مکمل فعال کر دیا جائے گا جہاں 32 ڈائیلسز مشینیں آ چکی ہیں۔ وزیرآباد انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو فعال کر دیا گیا ہے۔ اس ادارے کا دائرہ کار مزید وسیع کر رہے ہیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں کے فضلہ کی تلفی کے لئے منظم نظام بنا دیا ہے۔ 26 اضلاع میں انسنریٹرز لگ چکے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال ٹیچنگ ہسپتالوں کے ساتھ بھی بہت حد تک تعاون کر رہے ہیں۔ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر میں ہسپتالوں کے فضلہ کو مائیکروویو کے ذریعے تلف کیا جائے گا جس کا پی سی ون تیار کیا جا رہا ہے۔

    سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس نے اس موقع پر کہا کہ امیونائزیشن پروگرام کے لئے 6.26  ارب روپے بجٹ میں مختص کئے گئے ہیں۔ اس پروگرام میں ویکسینیٹرز کی رسائی کی شکایات تھی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے پورے پنجاب میں ویکسینیٹرز کی بھرتی کی گئی ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھی یہ پروگرام جاری رہا۔ اس پروگرام کے تحت ایک لاکھ سے زائد ہیلتھ پروفیشنلز کی تربیت کی گئی ہے۔ 615ای پی آئی سینٹرز کو بحال کیا گیا ہے۔ آئی آر ایم این سی ایچ پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں 1280 ٹی ایچ کیو 24/7 فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ پنجاب کے تمام ٹی ایچ کیوز نئی سکیم کے تحت 24/7 ہو جائیں گے۔ ابھی تک ایک لاکھ 75ہزار سے زائد حاملہ خواتین کو ایمرجنسی ایمبولینس میں ہسپتال میں شفٹ کیا گیا ہے۔ غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کے لئے 58 سٹیبلائزیشن سینٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ یکم اکتوبر سے لاہور اور ننکانہ صحت میں ”ویل ویمن کلینک“ کے پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں خواتین کی سکریننگ کی جائے گی۔ پراجیکٹ کے دائرہ کار کو صوبہ بھر میں پھیلائیں گے۔ یکم جولائی 2018ء سے لے کر 30جون 2020ء تک کل 20 لاکھ افراد کی سکریننگ کا عمل مکمل کیا گیا۔ پنجاب ہیپاٹائٹس کنٹرول پروگرام کے تحت 2018-19ء میں 8429 افراد اور 5742 افراد کا ہیپاٹائٹس کا علاج کیا گیا۔ 2019-20ء میں 5لاکھ سے زائد افراد کو ویکسنیشن کی سہولت دی گئی ہے۔ اگلے پانچ سال میں فلیگ شپ پروگرام کے لئے 58 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام نے بھی کورونا وائرس کے دوران کام کیا۔ جس کے دوران 600 سے زائد نئے افراد کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے۔ پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام کے تحت بھی تمام اضلاع میں سکریننگ کا عمل جاری ہے۔

   صوبائی وزیر صحت  ڈاکٹریاسمین راشد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ٹیچنگ ہسپتالوں میں ریگولر فیکلٹی کا بہت بڑا چیلنج تھا جس پر انتہائی خوبصورتی سے قابو پایا گیا۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو داد دیتی ہوں کہ جس نے ہر دو ہفتے بعد پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلا کر پروفیسرز، اسسٹنٹ پروفیسز اور ڈاکٹرز کو ترقی دی۔

    سپیشل سیکرٹری محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے کہا کہ اب تک 470 سے زائد ٹیچنگ فیکلٹی کو بھرتی کیا گیا ہے اور تقریباً 5ہزار نرسز جس میں 5سو مین نرسزبھی شامل ہیں کو بھرتی کیا گیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں 851 افراد کی بھرتی کے لئے ریکوزیشن پنجاب پبلک سروس کمیشن کو جا چکی ہے۔ اب تک 856ڈاکٹرز کو اگلے گریڈ میں ترقی دی جا چکی ہے۔

    صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے پریس کانفرنس کے دوران سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ تمام نرسوں کے داخلے کئے جائیں گے۔ فیکلٹی کی کمی پورا کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔ پنجاب میں صحت انصاف کارڈ کے دائرہ کار کو جلد وسیع کر دیا جائے گا۔ سروس ڈلیوری کے معیار کو مزید بہتر کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میڈیکل کمیشن کے قانون کو اسمبلی میں منظور کر لیا گیا ہے۔ جب بھی آپ ادارہ میں اصلاحات لاتے ہیں تو آغاز میں مشکلات تو آتی ہیں۔ فیصل سلطان نے اس موضوع پر تفصیلی پریس کانفرنس کی ہے۔ ماضی میں پی کے ایل آئی منصوبہ بالکل نہیں چل رہا تھا۔ کورونا وائرس کے دوران پی کے ایل آئی نے بہترین خدمات سرانجام دیں۔ یہ ہسپتال مکمل فعال ہو چکا ہے۔ میوہسپتال کو ابھی تک کورونا وائرس کے مریضوں کے لئے رکھا ہے۔ صوبائی وزیرصحت ڈاکٹریاسمین راشد نے مزید کہا کہ ادویات کی قیمتوں کے حوالے سے فیصل سلطان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ جس پر وہ پنجاب آ کر تفصیلی اجلاس طلب کریں گے۔ 2003ء کے بعد ادویات کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں۔ عدالت میں پرانی حکومت کو بلایاگیا جہاں انہوں نے کیبنٹ کے ذریعے ادویات کی قیمتیں بڑھائی گئیں۔ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ تمام سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسیوں میں تمام مریضوں کے لئے ادویات مفت ہیں۔ کورونا وائرس کے دوران بھی پی آئی سی کے ذریعے مریضوں کو ان کے گھروں میں دوائی بذریعہ ڈاک بھیجی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب نوازشریف ہمارے پاس آئے تو ان کی بیماری کی تشخیص کے بعد علاج شروع کر دیا گیا جس کے باعث ان کی حالت قدرے بہتر ہو گئی۔ اگر طبیعت بہتر نہ ہوتی تو وہ باہر جانے کے قابل بھی نہ ہوتے۔ ابھی تک نوازشریف کے پلیٹ لیٹس کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی ہے۔ نوازشریف نے ملاقات کے دوران علاج کے متعلق مکمل تسلی کا اظہار کیا تھا اور ہم نے نوازشریف کو دل کے علاج کے لئے بھی آفر کی تھی لیکن انہوں نے اپنے معالج کے ذریعے علاج کو بہتر سمجھا۔ وزیراعظم عمران خان کو لمحہ بہ لمحہ نوازشریف کی حالت کے بارے میں بتایا گیا۔ نوازشریف بیرون ملک سے علاج کرانے کے بعد واپس آنے کا وعدہ کر کے گئے تھے جس کی انہوں نے خلاف ورزی کی۔ میں نے ذاتی طور پر نوازشریف کے ذاتی معالج ڈاکٹرعدنان سے بات کر کے رپورٹس بھجوانے کا کہا لیکن رپورٹس نہ آ سکیں۔ نوازشریف کا رپورٹس بھیجنا فرض بنتا تھا۔ اطلاع کے مطابق 26 فروری کو علاج ہونا تھا لیکن وہ ضد کر کے بیٹھ گئے کہ میری بیٹی آئی گی تو علاج کرواؤں گا۔ باقی بچے وہاں ہیں آپ کو علاج کروا لینا چاہیے تھا۔ آپ بڑی پارٹی کے لیڈر ہیں تو وطن واپس آ کر سیاست کریں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ نوازشریف کے علاج کے لئے 10 سینئر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ تمام رپورٹس ٹھیک ہیں اور مجھے اپنے ڈاکٹرز پر مکمل یقین ہے۔ یقینا نوازشریف کی طبیعت بہت بہتر ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہیں تو وطن واپس آ جائیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر نوازشریف خود وطن واپس نہیں آتے تو ان کو بلوایا جائے گا جس کے لئے برطانیہ کی حکومت سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ نوازشریف کو اپنی ہی حکومت کے دوران نااہل قرار دے دیا گیا۔ نیب کا ادارہ ہم نے نہیں بلکہ خود ان کی حکومت نے بنایا تھا۔ شہبازشریف کی ضمانت عدالت نے مسترد کی ہے لیکن حکومت پر الزام تراشیاں کی جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب عدالت کے کہنے پر پیش ہوئے۔ پانامہ لیکس آپ کی حکومت میں آئیں۔ اگر آپ کو نیب نے پکڑا تو آپ کی کرپشن پر پکڑا۔