اب پاکستان جنگ میں نہیں امن میں شراکتدار بنے گا، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا گلوبل پیس چین کے زیراہتمام “افغانستان کی تعمیر نو پر گول میز کانفرنس” سے خطاب

اب پاکستان جنگ میں نہیں امن میں شراکتدار بنے گا، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے، وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب کا گلوبل پیس چین کے زیراہتمام “افغانستان کی تعمیر نو پر گول میز کانفرنس” سے خطاب

اسلام آباد :وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا ہے کہ اب پاکستان جنگ میں نہیں امن میں شراکتدار بنے گا، پاکستان آئندہ بھی افغانستان میں امن کے قیام کے لئے کوششیں جاری رکھے گا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار جانوں کی قربانیاں،150ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا، دنیا کو اس کا اعتراف کرنا ہوگا،

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 9ملین افغان غربت کی نچلی سطح سے بھی نیچے ہیں،اس پر دنیا کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔وہ جمعرات کویہاں گلوبل پیس چین کے زیراہتمام “افغانستان کی تعمیر نو پر گول میز کانفرنس” سے خطاب کررہے تھے۔وزیرمملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا کہ پاکستان کا دنیا کا واحد ملک ہے جو 4ملین سے زیادہ ا فغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے،

افغانوں کی بڑی تعداد اب بھی پاکستان میں موجود ہے،جب ہمسایہ ملک میں آگ لگی ہو تو چنگاری آپ کے گھر میں بھی آتی ہے،پرامن افغانستان ہی پرامن پاکستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے افغان تجارت، علاج معالجے سمیت ہر مشکل میں پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں، ا ن کی فنانسنگ کرنے والوں اور ان کے نیٹ ورکو توڑ کر امن قائم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان وزیراعظم بننے سے پہلے بھی افغانستان مسئلے کے حل کے حوالہ سے کلیئر تھے،انہوں نے ہمیشہ افغان مسئلے کے سیاسی حل اور بات چیت پر زور دیا، قطر میں طالبان کا سیاسی دفاتر بننے کے بعد تمام سٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھنے کا موقع ملا اورمعاملات میں مثبت پیش رفت ہوئی، اس مشکل مرحلے میں اگر دنیا نے افغانستان کو تنہا چھوڑ تو اس سے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔وزیرمملکت فرخ حبیب نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کا راستہ افغانستان سے ہے، معاشی ترقی اور استحکام بھی اسی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ بات چیت میں ہونے والی 4باتوں پر عمل ضروری ہے،افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغانستان کے موجودہ سیاسی نظام میں انسانی حقوق کا خیال رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان سے انخلا اور انسانی امداد کی افغانستان تک رسائی اپنا کردار ادا کیا،دنیا کو بتادیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن سے محبت کرنے والا ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے،دنیا کھلے دل سے اسے تسلیم کرے، ہماری یہ ہی کوشش رہی کہ افغانستان میں تمام سٹیک ہولڈرز کی متفقہ حکومت ہو، تا کہ افغانستان میں خانہ جنگی نہ ہو اور گذشتہ 40سالوں سے افغانستان میں عدم استحکام کا خاتمہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے حالیہ خطاب میں ابھی اسی بات پرزور دیا کہ دنیا افغانستان کو اپنائے، وہاں کے لوگوں کو مدد