مسلم ممالک کو بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کامیاب بنا کر بھارت کا ناطقہ بند کرنا ہوگا ، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور افغانستان ہے ،وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی محمد طاہراشرفی کی پریس کانفرنس

مسلم ممالک کو بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کامیاب بنا کر بھارت کا ناطقہ بند کرنا ہوگا ، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور افغانستان ہے ،وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی محمد طاہراشرفی کی پریس کانفرنس

اسلام آباد  :وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین محمد طاہر محمود اشرفی نے کہاہے کہ بھارت کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم پر بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بے حد موثر ہوگی ، عالم اسلام کے تمام ممالک کو یہ مہم کامیاب بنا کر بھارت کا ناطقہ بند کرنا ہوگا ، پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور افغانستان ہے ، اب دنیا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر آرہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ الحمداللہ محرم الحرام اور چہلم پر مثالی انتطامات پر اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، ان انتطامات پر دشمن کو سخت مایوسی ہوئی ، محرم الحرام میں دشمن ممالک کا ٹارگٹ تھا کہ تشدد یا فرقہ وارانہ فسادہو لیکن ایسا نہ ہوا، ہندوستان مسلمانوں پر جو مظالم کررہا ہے اس پر انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بہت اچھی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستان مسلسل پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے ،اس دفعہ افغانستان کی صورتحال مختلف تھی ۔ہندوستان کی کوشش تھی امن و امان کی صورتحال خراب ہومگر اس کو ناکامی ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ انڈیا مسلسل اقلیتوں پر ظلم کر رہا ہے ، آئل پیکج دینے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہیں ،پہلے کویت کے ویزے بند تھے اب کویت میں ہمارے لوگوں کا جانا شروع ہوگیا ہے ، امر یکا اپنی ہزیمت کا ملبہ ڈالنا چاہتا ہے تو پاکستان اس کا مقابلہ کرے گا ، پاکستان میں اتحاد اور اتفاق سے آگے چلیں گے ،ہندوستان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے ۔

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور پاکستان علما کونسل کے چیئرمین محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی خواتین کی بات کرنے والوں کو عافیہ صدیقی کیوں بھول گئی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ مذہب میں تبدیلی کے حوالے وزارت مذہبی امور کا موقف واضح ہے، ملک میں پروپیگنڈا کیا گیا کہ اسلام قبول کرنے پر پابندیاں کی جارہی ہے ،

وزیراعظم عمران خان نے واضح کردیا کہ حکومت کا موقف وہی ہے جو مذہبی امور، اسلامی نظریاتی کونسل اور علما و مشائخ کا موقف ہے ، وقف املاک بورڈ کے حوالے سے بھی وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ کوئی ایسا قانون نہیں ہوگا جو دستور کے مخالف ہو۔

محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ میں میڈیا کے سامنے ایک بار پھر واضح کرتا ہوں کہ لا الہ الااللہ کے نام پر حاصل کیے گئے ملک پاکستان میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی بھی قانون پاس نہیں ہوسکتا ،نہ ہی ایسا کوئی قانون بنایا جارہاہے اور نہ ہی قرآن و سنت سے متصادم کسی بھی طرح کی قانون سازی کا ارادہ ہے ۔

سعودی حکومت کی جانب سے پاکستان کو دیئے گئے پیکج سے متعلق سوال کے جواب میں محمد طاہر محمود اشرفی نے بتایاکہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں ،

سعودی حکومت نے 600 پاکستانی طلبا کو وظائف دینے ، پٹرولیم مصنوعات میں تاخیری پے منٹ کے ساتھ آئل دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور ہم شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد بن سلمان کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں ۔بھارت کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم پر عرب ممالک میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ بے حد موثر ہوگی ، عالم اسلام کے تمام ممالک کی طرف سے اس طرح کا اقدام بھارت کا ناطقہ بند کیا جا سکتا ہے۔