وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف سےملاقات

 وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف سےملاقات

دوشنبے :وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بدھ کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف سے صدارتی محل میں ملاقات کی۔تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ نے تاجک صدر امام علی رحمان کو اکتوبر 2020 میں منعقدہ انتخابات میں دوبارہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور دوشنبے میں منعقدہ ،نویں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس کانفرنس کے بہترین انتظامات کو سراہتے ہوئے، تاجک صدر کو مبارکباد پیش کی اور ان کی پر خلوص میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں جو یکساں مذہبی، تہذیبی اور ثقافتی بنیاد پر استوار ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت، ان دو طرفہ مراسم کو مزید وسعت دینے اور مستحکم بنانے کیلئے پر عزم ہیں۔پاکستان اور تاجکستان کے مابین دو طرفہ تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور کثیرالجہتی شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے وسیع مواقع موجود ہیں ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کاسا 1000 جیسے اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل، جنوبی و وسطی ایشیا کے مابین توانائی راہداری کے قیام میں معاون ثابت ہوگی۔پاکستان اور تاجکستان کے درمیان دو طرفہ تجارتی تعاون کے فروغ کیلئے مشترکہ وزارتی کمیشن اور مشترکہ ورکنگ گروپس جیسے “ادارہ جاتی فریم ورکس، کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے ۔ملاقست کے دوران ، افغان امن عمل سمیت خطے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بھی تبادلہ ء خیال ہوا۔

وزیر خارجہ نے تاجک صدر کو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مصالحانہ کوششوں اور ان کے ثمرات سے آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان، خطے کی تعمیر و ترقی کیلئے افغانستان میں دیرپا امن کو ناگزیر سمجھتا ہے ۔پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔تاجکستان کے صدر امام علی رحمان نے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کی نوعیت پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے انہیں مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کی.