حکیم محمد سعید دہلوی کے حالاتِ زندگی پر مختصر نظر

حکیم محمد سعید (1920 تا1998) جن کا اصل نام محمد سعید دہلوی مرزا تھا۔ موصوف 1920ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے ، ان کی والدہ سر سید احمد خاں کی رشتہ دار تھیں۔ والد جدید تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے مرزا کو بھی جدید تعلیم دلوائی

حکیم محمد سعید دہلوی کے حالاتِ زندگی پر مختصر نظر

مولف /تعارف

حکیم محمد سعید (1920 تا1998) جن کا اصل نام محمد سعید دہلوی مرزا تھا۔ موصوف 1920ءمیں دہلی میں پیدا ہوئے ، ان کی والدہ سر سید احمد خاں کی رشتہ دار تھیں۔ والد جدید تعلیم یافتہ تھے۔ انھوں نے مرزا کو بھی جدید تعلیم دلوائی۔ مرزا نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم۔ اے۔ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد ایم۔ اے۔ او۔ کالج علی گڑھ میں لکچرر ہو گئے۔ مرزا محمد سعید نے دو ناول لکھے۔ "خواب ہستی" اور "یاسمین"، "خواب ہستی" ایک اخلاقی ناول ہے یہ دونوں ناول سماجی حالات کے آئینہ دار ہیں۔ ان کے ناولوں میں جگہ جگہ طویل اصلاحی تقریروں، موقع بے موقع نصیحتوں کی بھرمار ہے، لیکن فن اور پیش کش کے لحاظ سے ان ناولوں کا شمار اردو کی تاریخی اور یادگار کتابوں میں ہوتا ہے۔ مصلحانہ جوش نے ناولوں میں دل چسپی کا عنصر دھندلا کر دیا ہے۔ حکیم محمد سعید ایک مایہ ناز حکیم تھے جنہوں نے اسلامی دنیا اور پاکستان کے لیے اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مذہب اور طب و حکمت پر 200 سے زائد کتب تصنیف و تالیف کیں۔ ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے قائم کردہ اہم ادارے ہیں۔ حکیم سعید نے ادب کی بہت خدمت کی خاص طور پر بچوں کے ادب میں تو کمال کردیا، وہ بچوں اور بچوں کے ادب سے بے حد شغف رکھتے تھے۔ اپنی شہادت تک وہ اپنے ہی شروع کردہ رسالے ہمدرد نونہال سے مکمل طور پر وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نونہال ادب کے نام سے بچوں کے لیے کتب کا سلسلہ شروع کیا ۔ اس سلسلے میں کئی مختلف موضوعات پر کتب شائع کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہترین عالمی ادب کے تراجم بھی شائع کیے جاتے ہیں۔17 اکتوبر 1998ء میں انہیں کراچی میں شہید کر دیا گیا جس وقت انہیں آرام باغ میں ان کے دواخانہ کے باہر وحشیانہ فائرنگ کرکے قتل کیا گیا وہ روزہ کی حالت میں تھے یوں انہوں نے روزہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ ان کا معمول تھا کہ وہ جس روز مریضوں کو دیکھنے جاتے روزہ رکھتے تھے چونکہ ان کا ایمان تھا کہ صرف دوا وجہ شفاءنہیں ہوتی۔ حکیم محمد سعید پاکستان کے بڑے شہروں میں ہفتہ وار مریضوں کو دیکھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ ان کا ادارہ ہمدرد بھی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی تمام تر آمدنی ریسرچ اور دیگر فلاحی خدمات پر صرف ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان بننے کے بعد ایک لڑائی ختم ہوئی تو دہلی کے ایک امیر گھرانے میں ایک نئی ’جنگ‘ شروع ہو گئی۔ اس کا ایک نوجوان یہ کہتے ہوئے ”یہاں جس انداز کی حکومت ہے اس کی تابعداری نہیں کی جا سکتی’‘ پاکستان جانے پر تلا تھا۔ والدہ اور بڑا بھائی سمجھا سمجھا کر ہار مان چکے تو اجازت ملی۔ ’اب جا ہی رہے ہو تو یہ چادر اور تکیہ میری نشانی کے طور پر اپنے ساتھ رکھنا‘ ماں نے ایک گٹھڑی بڑھاتے ہوئے کہا، جو اس نے نم آنکھوں کے ساتھ تھام لی۔ اسی ’نشانی‘ نے ہی کچھ عرصے بعد زندگی بدل ڈالی۔ اس کے بعد اس نوجوان نے واپس پلٹ کر نہیں دیکھا اور عمر بھر پاکستان نہیں چھوڑا، حتیٰ کہ پاکستان کے لیے جان دے دی۔ یہ نوجوان حکیم محمد سعید تھے جنہوں نے ہمدردی سے بھرپور ’ہمدرد دواخانہ‘ کی بنیاد رکھی جو آج بھی ان کے طے کیے ہوئے خطوط پر خدمات بجا لا رہا ہے۔ حکیم محمد سعید کی پاکستان آمد کے بعد ان کے بھائی خط و کتابت میں اکثر کہتے ’واپس آ جاو¿، یہاں یہ ہے وہ ہے،‘ جس کے جواب میں وہ لکھتے ’یہاں جو کچھ ہے وہ وہاں نہیں۔‘ جب پاکستان میں کوئی سانحہ ہوتا بھائی کا اصرار بڑھ جاتا، تاہم ان کا فیصلہ اٹل رہتا۔ یہ تکرار خطوط ہی نہیں ملاقاتوں میں بھی سالہا سال چلتی رہی۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کی موت بھائی سے پہلے ہو، بھائی جنازے کے لیے آئیں تو کفن ہٹا کر کہیں ’تم صحیح تھے۔‘ ایسا ہوا بھی، وہ بھائی سے قبل یہ دنیا چھوڑ گئے، لیکن کیا ان کے بھائی نے ایسا کہا؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں یہ ذہن میں رکھتے ہوئے، کہ جس ملک کے لیے انہوں نے سب کچھ چھوڑا وہاں ان کے ساتھ جو سلوک ہوا کیا وہ اس کے مستحق تھے؟

حکیم محمد سعید کے آبائی خاندان کا تعلق چین کے شہر سنکیانگ تھا، جو سترھویں صدی کے اوائل میں پشاور منتقل ہوا، پھر ملتان اور وہاں سے دہلی منتقل ہوا اور حوض قاضی میں رہائش پذیر ہوا۔ وہیں پر حکیم سعید، حکیم عبدالمجید کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ دو سال کی عمر میں ہی والد کا سایہ اٹھ گیا۔ ان کی تربیت والدہ اور بڑے بھائی حکیم عبدالحمید نے کی۔ حکیم سعید کو صحافت کی طرف رغبت تھی مگر بڑے بھائی کے کہنے پر حکمت کی طرف آ گئے۔انہوں نے 1936ءمیں طیبہ کالج دہلی میں شعبہ طب میں داخلہ لیا۔ 1940ءمیں تعلیم مکمل کر کے بطور معالج کام شروع کیا۔ انہی دنوں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور آزادی کی جدوجہد زور پکڑنے لگی، جس نے ان کے اندر بھی تحریک پیدا کی۔ تقسیم کے ساتھ ہی انہوں نے برملا کہنا شروع کر دیا کہ ’میں مزاجاً پاکستانی ہوں، یہاں رہنا مشکل ہو گا۔‘ وہ پاکستان جا کر مسلمانوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ ٹھیک 72 برس قبل نو جنوری 1948 کو حکیم سعید بیوی، بیٹی اور ماں کی دی گئی ’نشانی‘ لیے دہلی سے نکلے اور کراچی پہنچ گئے۔ جب وہ پاکستان پہنچے تو کسی امیر خاندان کے چشم و چراغ نہیں بلکہ ایک عام سے انسان تھے۔ بالکل خالی ہاتھ، سب کچھ بھائی کو سونپ آئے تھے۔ یہاں رہائش کے مسائل بھی تھے اورغم روزگار بھی، ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھے، ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا۔ کچھ روز بعد بارہ روپے ماہوار پر ایک دس بائی دس کا کمرہ حاصل کیا اور وہیں مطب کی بنیاد رکھی۔ کاغذ پر ’ہمدرد مطب‘ اپنے ہاتھ سے لکھ کر لگایا۔ ساڑھے بارہ روپے کا فرنیچر کرائے پر لیا اور یوں ان کے کام کا آغاز ہوا۔ ماں کی نشانی چادر اور تکیہ انہوں نے ہمیشہ اپنے پاس رکھا۔ اسی تکیے پر سوتے۔ شروع کے سخت ایام میں ان کی اہلیہ نعمت بیگم نے تکیے کا غلاف دھونے کے لیے اتارا اور ہاتھ سے روئی کو ٹھیک کیا تو محسوس ہوا کہ اس میں کچھ ہے۔ انہوں نے کھول کر دیکھا تو اندر نوٹ تھے جو قریباً 25000 روپے تھے۔ انہوں نے حکیم سعید کو دکھائے تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہیں یہ بات سمجھ میں آئی کہ ماں نے یہ نشانی کیوں دی تھی۔ اسی پیسے سے، جو اس وقت کافی بڑی رقم تھی، انہوں نے مطب اور دواخانے کو وسعت دی اور دوسرے شہروں میں بھی شاخیں کھولیں۔ کام وسیع ہوتا گیا، ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی شہرت پھیلتی گئی۔ حکیم سعید کی خاص بات یہ تھی کہ وہ فیس نہیں لیتے تھے، مستحق مریضوں کو دوائی بھی مفت دیتے، بلکہ کچھ مریضوں کی پرچیوں پر لکھ دیتے کہ ’دوائی دینے کے ساتھ ساتھ مالی مدد بھی کر دی جائے۔ بچے ان کی کمزوری تھے، ان کی دراز میں ٹافیوں کے پیکٹ اور کھلونے پڑے ہوتے کسی مریض کے ساتھ بچہ ہوتا، یا مریض ہی بچہ ہوتا ان کو وہ چیزیں دیتے۔ مریضوں سے انتہائی نرمی سے بات کرتے اور موقع کی مناسبت سے کوئی چٹکلہ بھی سنا دیتے جس سے مریض اپنا مرض بھول جاتا۔ حکیم سعید کہا کرتے تھے ’معالج میں روحانیت کا عنصر ہونا چاہیے، جب وہ نبض چھوتا ہے تو انگلیوں سے شعاعیں نکل کر مریض میں منتقل ہو جاتی ہیں، اگر معالج پاکباز ہو گا تو مریض شفایاب ہو گا۔

وہ روزے کے حامی تھے اور رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھتے تھے۔ دوپہر کے کھانے کے سخت خلاف تھے بلکہ یہاں تک کہا کرتے تھے کہ ’میرا بس چلے تو لنچ پر پابندی لگا دوں۔ وہ کہتے تھے ’تین وقت کا کھانا انسانی جسم اور ضروریات کے حساب سے مناسب نہیں۔ اس سے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ”گورنر ہائوس نہیں دواخانہ’اس عہدے کی وجہ سے میں مریضوں کی بہتر خدمت نہیں کر پا رہا“ یہ جملہ انہوں نے گورنر سندھ کا عہدہ ملنے کے محض ایک ماہ بعد استعفے کے طور پر لکھا، جسے تین ماہ بعد منظور کر لیا گیا حالانکہ انہیں گورنرشپ پانچ سال کے لیے دی گئی تھی۔ اِس دوران بھی مطب جانے کا سلسلہ بند نہیں کیا۔ انہوں نے ہمدرد دواخانہ، ہمدرد فائونڈیشن اور ہمدرد یونیورسٹی جیسے ادارے قائم کیے۔ ’نونہال‘ کے نام سے بچوں کے لیے رسالہ بھی نکالا اور دو سو سے زائد کتابیں لکھیں۔ خدمات کے صلے میں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔ سراپا شفقت اور امن درویش صفت حکیم سعید، جن کی کسی سے دشمنی نہیں تھی، 17 اکتوبر 1998ءکو ان کا جسم اس وقت گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا، جب وہ اپنے مطب جا رہے تھے۔ وہ اس وقت بھی روزے کی حالت میں تھے۔ حکیم سعید کا قتل کا سانحہ آج بھی پاکستان کے ان بڑے حادثات میں شامل ہے جو منظقی انجام کے منتظر ہیں۔