معاشی استحکام کے حصول کے بعد دولت کی تخلیق ہمارا ہدف ہے، حکومت طویل المدتی منصوبوں اور منصوبہ بندی کی جانب گامزن ہے،وزیر اعظم عمران خان کا گرین یورو (انڈس بانڈ) کے اجرا کی تقریب سے خطاب

معاشی استحکام کے حصول کے بعد دولت کی تخلیق ہمارا ہدف ہے، حکومت طویل المدتی منصوبوں اور منصوبہ بندی کی جانب گامزن ہے،وزیر اعظم عمران خان کا گرین یورو (انڈس بانڈ) کے اجرا کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد :وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت طویل المدتی منصوبوں اور منصوبہ بندی کی جانب گامزن ہے،10 ڈیموں کی تعمیر اس سلسلے کی کڑی ہے،زراعت،لائیو سٹاک میں جدت لارہے ہیں، دو نئے ماحول دوست شہر بنائے جارہے ہیں،صحت کارڈ دراصل صحت کا ایک پورا نظام ہے،ایک قوم بنانے کےلئے یکساں نصاب متعارف کروا رہے ہیں۔ معاشی استحکام کے بعد اب دولت کی تخلیق ہمارا ہدف ہے۔وہ پیر کو واپڈا کی جانب سے پاکستان کے پہلے گرین یورو (انڈس بانڈ) کے باضابطہ اجرا کی تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کررہے تھے۔

واپڈا کی جانب سے گرین یورو (انڈس بانڈ) کا اجراء 500 ملین ڈالر کے حصول کے لیے کیا گیا ہے۔گرین یورو (انڈس بانڈ) دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی فنانسنگ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔گرین یورو (انڈس بانڈ) ریاستی ضمانت کی بجائے واپڈا کی مستحکم مالی پوزیشن کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔گرین یورو (انڈس بانڈ) میں دنیا کے بڑے بڑے مالیاتی اداروں نے غیر معمولی دلچسپی کا اظہار کیا۔گرین یورو (انڈس بانڈ) میں عالمی مالیاتی اداروں کی غیرمعمولی دلچسپی پاکستان اور واپڈا کی مستحکم مالی پوزیشن پر اعتماد کی مظہر ہے۔ورلڈ فنانس مارکیٹ میں گرین یورو (انڈس بانڈ) کی غیرمعمولی پذیرائی سے پاکستان میں بڑے منصوبوں کی فنانسنگ کے لئے نئی راہیں کھل گئی ہیں۔

وزیر اعظم نے بانڈ کے اجراء پر چیئرمین واپڈا اوران کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے نے اچھے ریٹ پر یہ قرض حاصل کیا ہے،انہوں نے جس تیزی سے ڈیموں پر کام کیا اس پر بھی انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں،بھاشااور مہمند ڈیم جب شروع کئے تو دوسال میں اتنی پیش رفت کی توقع نہیں تھی اس کی بنیادی وجہ عملدرامد کا فقدان تھا۔انہوں نے کہا کہ قومیں طویل المدتی منصوبہ بندی سے عظیم بنتی ہیں۔ہمارے ہاں ہر شعبہ میں اس کا فقدان تھا،1960 کی دھائی میں پاکستانیوں کو ایک امید اور اعتماد تھا،آہستہ آہستہ اس میں تنزلی آتی گئی،اس وقت جب ہم بھارت سے کرکٹ کھیل کر واپس پاکستان آتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ غریب ترین ملک سےکسی ترقی یافتہ ملک میں آگئے ہیں۔1985 کے بعد اس میں تنزلی شروع ہوئی،ہندوستان ہم سے آگے نکل گیا،بنگلہ دیش جسے سیلاب اور دیگر وجوہات پر ایک بوجھ قرار دیا جاتا رہا وہ ہم سے آگے نکل گیا،ہم نے بجلی قلیل المدت بنیادوں پر بنائی،اس میں کئی بار بدنیتی کا عنصر نمایاں تھا،ہم برصغیر میں سب سے مہنگی بجلی پیدا کررہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگلے دس سال میں 10 نئے ڈیم بنا رہے ہیں جس سے 10 ہذار میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی،12 ملین مکعب ایکڑ فٹ اضافی پانی دستیاب ہوگا،ایک لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوگی،آبادی میں اضافہ کے ساتھ زائد پیداوار بھی وقت کی ضرورت ہے،اس اقدام سے ملکی سلامتی اور فوڈ سکیورٹی بھی حاصل ہوگی،اس سے ماحول دوست بجلی پیدا ہوگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں عالمی حدت سب سے زیادہ ہے،پاکستان ماحولیاتی اعتبار سے متاثرہے ہمیں اج سے ہی اپنی نسلوں کے بارے میں سوچنا ہےکہ کیا ایسے اقدامات اٹھائیں کہ ان کی زندگی بہتر ہو،ان کے لئے بہترین پاکستان چھوڑ کرجائیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہمارے گلیشئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، گلیشئر پگھلنے سے پانی کی کمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پن بجلی پیدا کرنے کی بڑی گنجائش ہے۔

ہم نے دس ارب درخت لگانے کے ہدف کا آغاز کیا ہے۔خیبرپختونخوا میں ایک ارب درخت لگائے۔2018 میں شروع کئے 10 ارب درختوں کے منصوبے میں سے بھی ایک ارب درخت لگا چکے ہیں یہ منصوبہ 2023 میں مکمل ہوگا۔اس سے ماحولیات پر مثبت اثر پڑے گا،اس سے روزگاراور سیاحت کے مواقع پیدا ہوں گے،شہروں میں بھی درخت لگائیں گے،شہروں میں اس سے آلودگی میں کمی آئے گی،ایک وقت تھا جب لاہور کو باغوں کا شہر کہتے تھے،وہاں آلودگی خطرناک حدتک پہنچ چکی ہے۔

وزیر اعظم نے کہاکہ واپڈا کے اس اقدام سے جہاں سستی او ماحول دوست بجلی کا حصول ہوگا وہاں قومی پارک بنانے سے وائلڈ لائیو کو تحفظ ملے گا،مین گرووز میں اضافہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رائج نصاب اور نظام تعلیم سے قوم تین درجوں میں تقسیم ہے ہم یکساں نصاب لاکر یہ فرق ختم کررہے ہیں،اس وجہ سے بنیاد پرستی پروان چڑھی،وزیر تعلیم نے یکساں نصاب کے لئے زبردست کام کیا اور تمام فریقین کی مشاورت سے اسے عملی جامہ پہنایا،دینی مدارس کو پہلی بار قومی دھارے میں لارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈاکٹر،نرسنگ اور آبادی میں تفریق بہت زیادہ ہے،اس کے لئے ہیلتھ کارڈ متعارف کرایا ہے جس سے کےپی کے اور پنجاب کی مکمل آبادی مستفید ہونے جارہی ہے اس سے صحت کے شعبہ میں انقلاب برپا ہوگا،نجی شعبہ اب اس شعبہ میں بھرپور حصہ لے گا۔

نجی ہسپتال دیہاتوں میں بھی بنیں گے۔ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ ہرجگہ ہسپتال قائم کر سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نیوٹریشن کا پروگرام لارہے ہیں،ہماری معیشت مستحکم ہوچکی ہے اب ہم دولت اکٹھی کرنے کی سمت گامزن ہیں،تب ہی قرضوں کے بوجھ سے نکلیں گے جب دولت ہوگی،تعمیراتی شعبہ کو فروغ ملا ہے،دو نئے شہر بنا رہے ہیں،صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے 1960 کی دہائی کے بعد سب سے زیادہ مراعات دی ہیں۔زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔اس سال مختلف فصلوں میں بمپر پیداوار ہوئی ہے،اس میں مزید اضافہ کے لئے سیڈ ڈویلپمنٹ کی طرف جا رہے ہیں تاکہ فی ایکڑ پیدوار بڑھا سکیں،لائیو سٹاک کی طر توجہ مرکوز کر رکھی ہے،پاکستان میں زیادہ دودھ دینے والی گائیں متعارف جروا کرزیادہ دودھ حاصل کیا جاسکتا ہے،آج ہم خشک ڈودھ باہر سے منگوا رہے ہیں اس سے ہم نجات پاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم طویل المدتی پالیسیوں کی جانب جا رہے ہیں،دس بڑے ڈیم اس کی واضح مثال ہے